ریلوے کا مزید 11ٹرینوں کی آؤٹ سورسنگ کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251126-08-28
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان ریلویز نے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت مزید 11 ٹرینوں کی آؤٹ سورسنگ کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے اوپن نیلامی 3 دسمبر کو ریلویز ہیڈ کوارٹر میں ہوگی۔ نجی ٹی وی کے مطابق نیلامی میں حصہ لینے والوں نے آؤٹ سورسنگ کے قوانین کے تحت اپنی دستاویزات ریلویز انتظامیہ کو جمع کرا دی ہیں جن کی جانچ پڑتال کا کام جاری ہے نیلامی میں حصہ لینے والی کمپنیوں کی دستاویزات کی جانچ پڑتال مکمل ہونے کے بعد 3 دسمبر کو اوپن بولی کی جائے گی جو کمپنی سب سے زیادہ بولی دے گی ٹرین کی سروسز اس کو مل جائے گی۔ جن ٹرینوں کی آؤٹ سورسنگ کی جائے گی ان میں ہزارہ ایکسپریس، ملت ایکسپریس، بہاء الدین زکریہ ایکسپریس، فرید ایکسپریس، بدر ایکسپریس، غوری ایکسپریس، راوی ایکسپریس، تھل ایکسپریس، میانوالی ایکسپریس، فیض احمد فیض پسنجر، موہنجودوڑو پسنجر ٹرین شامل ہیں۔ قبل ازیں ریلوے انتظامیہ 8 ٹرینوں کو آؤٹ سورس کرچکی ہے جن میں شالیمار پاک بزنس سمیت دیگر ٹرینیں شامل ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔