دہشت گردی: اسباب اور سہ رخی حل
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
ہم نائن الیون کے بعد سے مسلسل دہشت گردی کا سامنا کر رہے ہیں۔ نواز شریف کے آخری دور حکومت میں اسے بڑی حد تک کنٹرول کرلیا گیا تھا۔ جس کے نتیجے میں خود کش حملوں اور بڑے بم دھماکوں سے ہی نہیں بلکہ مساجد یا پبلک مقامات پر ہونے والے فائرنگ کے واقعات بھی تقریبا ختم ہوگئے تھے۔
مگر پھر ملک پر مسلط کیا گیا ’عالم اسلام کا سب سے ہینڈسم رہنما‘ وہ ہینڈسم جو پر امن سیاسی جدوجہد والے رہنماؤں کی عزت تارتار کرنا اور ان کا تمسخر اڑانا فرض سمجھتا تھا مگر دہشتگردوں کے لیے اس کے دل میں شرف انسانیت کا پورا فلسفہ موجزن ہوجاتا۔ سو اس نے طے کیا کہ ان کو مین اسٹریم کرنا ہے۔
مین اسٹریم کرنا تو محض بہانہ تھا۔ ورنہ واقعات کی ٹائم لائن سے واضح تھا کہ بڑی بغاوت کے لیے مسلح فورس کا بندوبست ہو رہا ہے۔ آنے والوں نے اپنے تیور سے بھی ثابت کردیا تھا کہ وہ مین اسٹریم ہونے نہیں آئے بلکہ عزائم کچھ اور ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جیو پالیٹکس اور مذہبی عینک
ماضی کے واقعات یاد دلانا یا ہینڈسم اعظم کو موضوع بحث لانا اس وقت ہمارے پیش نظر نہیں۔ زیر نظر سطور میں اس سے زیادہ اہم معاملے پر بات کرنی مقصود ہے۔ یہ معاملہ ہے اس اسکیم کو سمجھنا جس کے تحت دہشتگرد تنظیمیں وجود میں آتی ہے۔ اور بہت سے کیسز میں کامیابی سے فعال بھی رہتی ہیں۔ ہم کامیابی سے فعال اس لیے کہہ رہے ہیں کہ کسی دہشتگرد تنظیم کے لیے اپنی کامیاب موجودگی ثابت کرنے کے لیے اتنی بات کافی ہے کہ وہ دس بیس روز میں کوئی ایک واردات کرنے میں کامیاب ہوجائے۔ جبکہ سیکیورٹی فورسز کے لیے یہ بات ناکافی ہوتی ہے کہ وہ ہفتے میں 10،20 دہشتگرد ٹھکانے لگا دے۔ کیونکہ جب بھی دہشتگردی کا واقعہ ہوگا عوام میں یہ سوال اٹھے گا کہ سیکیورٹی ادارے کیا کر رہے ہیں؟
دہشتگرد تنظیمیں کس اسکیم کے تحت وجود میں آتی ہیں؟ اور وہ کیونکر ایک طویل عرصے تک کامیاب رہتی ہیں؟ یہ سوالات یوں اہم ہیں کہ ان کے جوابات سمجھے بغیر آپ مسئلے کی گہرائی نہیں سمجھ سکتے۔ یوں مسئلے کا کوئی حقیقی اور مستقل حل بھی نہیں نکل پاتا۔ ہم چونکہ 1987ء سے اکتوبر 1997ء تک عسکری تنظیموں کا حصہ رہے ہیں سو ان تنظیموں کی ساخت، ان کے انداز فکر اور پیچھے موجود عوامل کا چشم دید مشاہدہ اور گہرا شعور رکھتے ہیں۔ اپنے اسی تجربے کی روشنی میں کچھ حقائق کی نشاندہی کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔
دنیا کی کوئی بھی عسکری تنظیم یوں وجود میں نہیں آتی کہ کچھ ہم خیال لوگ جمع ہوئے اور انہوں نے کچھ مقاصد کے حصول کے لیے عسکری تنظیم بنالی۔ ایسا قطعا نہیں ہوتا۔ ہر عسکری تنظیم کے پیچھے کوئی نہ کوئی انٹیلی جنس ایجنسی ہوتی ہے۔ وہی اس کی اصل بانی ہوتی ہے۔
انٹیلی جنس ایجنسیز کے توسط سے ممالک کو ان تنظیموں کی ضرورت یوں پیش آئی کہ دوسری جنگ عظیم سے چند برس قبل یہ اصول طے کرلیا گیا تھا کہ اب بذریعہ جنگ کسی ملک کا کوئی حصہ قبضہ کرنے سے قابض کا قبضہ لیگل تصور نہ ہوگا۔ Kellogg–Briand Pact (1928) اور League of Nations Assembly Resolution on Non-Recognition, March 1932 کی مدد سے یہ پیشرفت ہوئی تھی۔ جب اقوام متحدہ بنی تو اسی اصول کی روشنی میں نئے جنگی قوانین بھی تشکیل پا گئے۔ یہ سب چونکہ اس مغرب نے کیا تھا جس کی یہ منافقت ہم سب بارہا دیکھ چکے کہ اپنے ہی بنائے قوانین کو بائی پاس کرنا اس کی عادت ثانیہ ہے۔ چونکہ اب ممالک یا ان کے جغرافیے کے کچھ حصے پر بذریعہ جنگ قبضہ غیر قانونی قرار دیدیا گیا تھا۔ سو جس امریکا نے یہ سب کروایا تھا اس نے جلد ہی اپنے لیے ‘بائی پاس‘ بھی تخلیق کرلیا۔ یہ بائی پاس تھا ممالک پر فوج کی جگہ مقامی عسکری تنظیموں کے ذریعے قبضہ۔
مشہور زمانہ ’بے آف پگ آپریشن‘ اس کی سب سے بدنام مثال ہے۔ اس آپریشن کے ذریعے کینیڈی دور کی بالکل ابتدا میں سی آئی اے نے کیوبا پر قبضے کی کوشش کی جو بری طرح ناکام ہوئی۔ اس مقصد کے لیے کیوبن شہریوں کو امریکا میں عسکری تربیت فراہم کی گئی اور 17 اپریل 1961 کو یہ آپریشن لانچ ہوگیا۔ تقریبا 1400 دہشتگرد کشتیوں کی مدد سے کیوبا کی بے آف بگ پر اترے۔ جہاں ان کے استقبال کو فیدل کاسترو کی انقلابی فورس موجود تھی۔
صرف 3 دن میں انہوں نے بھاڑے کی اس فورس کو بھون ڈالا اور 19 اپریل 1961 کو خس کام جہاں پاک ہوگیا۔یہ امریکی تاریخ کی سب سے بڑی ذلتوں میں سے ایک ہے۔
کہا جاتا ہے کہ صدر کینیڈی اس ناکامی پر قدر جذباتی ہوئے کہ انہوں نے کہہ دیا ’میں سی آئی اے کے پرزے کرکے ہوا میں ڑادوں گا‘ اور یہی نیک جذبہ ان کے قتل کا محرک بنا۔
فیدل کاسترو کی کمیونسٹ حکومت کو سوویت یونین کی حمایت حاصل تھی۔ سو بے آف پگ آپریشن نے کے جی بی کے ہیڈکوارٹر میں خطرے کی گھنٹیاں بجا دیں۔ وہ سمجھ گئے کہ اب ممالک پر عسکری تنظیموں کی مدد سے قبضے ہوں گے۔ سو ان کا جوابی وار امریکا کی دکھتی رگ پر آیا۔ کے جی بی نے فلسطینی تنظیموں کو مسلح کرنا شروع کردیا۔ بالخصوص مشہور زمانہ لیلی خالد کی کمیونسٹ تنظیم ’پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین‘ کی خصوصی سرپرستی کی۔
مزید پڑھیے: انقلاب، ایران اور پاکستان
کے جی بی اس قدر جارحانہ انداز سے سامنے آئی کہ اس نے طیارہ ہائی جیکنگ کو مستقل ٹرینڈ بنوا دیا۔ 1968 سے 1986 تک طیارہ ہائی جیکنگ کے تقریبا 28 واقعات ہوئے۔ جن میں سے 8 لیلی خالد کی تنظیم نے کیے۔ خود لیلیٰ نے بھی 2 ہائی جیکنگز میں حصہ لیا۔ ایک کامیاب جبکہ دوسری ناکام ہوئی اور لیلی گرفتار ہوگئیں۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ لیلیٰ خالد عیسائی تھیں۔
بے آف پگ میں سی آئی اے اور فلسطینی عسکریت میں کے جی بی کے 2 حوالے ہم نے بس بطور مثال دیئے ہیں۔ فی الحقیقت ان دونوں ایجنسیز نے یہ کام دنیا بھر میں اس قدر پھیلا دیا تھا کہ دیگر ممالک نے بھی یہ راہ اختیار کرلی۔ مثلا انڈیا کی جانب سے مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی کا ستعمال وغیرہ۔
اس سب کا نتیجہ یہ نکلا کہ عسکری تنظیمیں جارحانہ خارجہ پالیسی رکھنے والے ممالک کے لیے باقاعدہ ’فارن پالیسی ٹول‘ بن گئیں۔ یہاں یہ وضاحت کرتے چلیں کہ سی آئی اے اور کے جی بی کے اقدامات سے قبل ہی لاطینی امریکا اور افغانستان میں عسکری تنظیمیں وجود میں آگئی تھیں مگر یہ بس دہشتگردی کے لیے تھیں۔ ممالک کے تختے الٹنا ان کے اہداف میں شامل نہ تھا۔
جب آپ اس تاریخی پس منظر کو ذہن میں رکھیں تو پھر یہ دعویٰ فضول ہوجاتا ہے کہ چونکہ آئی ایس آئی نے افغان جہاد میں عسکری تنظیموں کی سرپرستی کی لہذا اس کے نتیجے میں ہمارا ملک دہشتگردی کا شکار ہوگیا۔ غلطی افغان تنظیموں کی سرپرستی اور ٹریننگ نہ تھی۔ بلکہ کچھ اور تھی جسے ہم ابھی واضح کرتے ہیں مگر یہ بات اصولی طور پر ذہن میں بٹھا لیجیے کہ آئی ایس آئی نے کوئی انوکھا کام نہ کیا تھا۔ باقی دنیا کی طرح ہی عسکری تنظیموں کو خارجہ پالیسی ٹول کے طور پر استعمال کیا تھا۔
کسی کو اچھا لگے یا برا مگر اس لمحہ موجود میں بھی یہ ٹول دنیا کے مختلف ممالک استعمال کر رہے ہیں۔ جس میں امریکا، برطانیہ، فرانس، انڈیا اور روس سب شامل ہیں۔ سو آپ اس ٹول سے یک طرفہ طور پر دست بردار نہیں ہوسکتے۔ دست برداری کا نتیجہ ہم نائن الیون کے بعد اچھی طرح بھگت چکے۔
سوال یہ ہے کہ ہم سے غلطی کیا ہوئی؟ وہ غلطی جس کے نتیجے میں پاکستان دہشتگردی کی لہر کا آسانی سے شکار ہوگیا؟ غلطی یہ تھی کہ جب سوویت یونین کے خلاف جنگ آخری مراحل کی طرف بڑھ رہی تھی تو اچانک فیصلہ ہوگیا کہ یہی اسکیم مقبوضہ کشمیر میں ٹرائی کرنی چاہیے اور جب اس پر عملدرآمد شروع کیا گیا تو مہلک ترین غلطی یہ کی گئی کہ پاکستانی شہریوں کو بسوں میں بھر بھر کر افغانستان ٹریننگ کے لیے پہنچا یا گیا۔ اور انہی پاکستانیوں کو آگے چل کر مقبوضہ کشمیر بھیجا گیا۔ اس کے نتیجے میں ملک کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں ان تنظیموں کے دفاتر، جلسے اور چندے شروع ہوگئے۔ جس سے ملک کا ماحول ہی عسکریت کے حق میں چلا گیا۔
ہمارے ادارے اس طرف توجہ ہی نہ دے سکے کہ سی آئی اے نے بے آف پگ اور سوویت یونین نے فلسطین میں اپنے شہریوں کو استعمال نہیں کیا تھا۔ سی آئی اے نے کیوبن اور کے جی بی نے فلسطینیوں کو استعمال کیا تھا۔ یہی انڈیا نے مکتی باہنی کے معاملے میں بھی کیا تھا۔
مزید پڑھیں: آنے والے زمانوں کے قائد ملت اسلامیہ
چنانچہ ہماری اس مہلک غلطی کا نتیجہ یہ نکلا کہ پلاسٹکی محمد بن قاسم اور صلاح الدین ایوبی پورے معاشرے کی سطح پر قابل قبول ہی نہیں بلکہ ہیرو تسلیم ہوگئے۔ جب آپ اپنے شہریوں کو استعمال کرتے ہیں تو اس کا نتیجہ پھر وہی نکلتا ہے جو نائن الیون کے بعد پاکستان میں نکلا۔ یہ بات درست ہے کہ اس میں وہی لوگ ملوث نہ تھے جو کشمیر کاز سے وابستہ رہے تھے۔ یہ بالکل ہی نئے لوگ تھے مگر ان کو پنپنے کے لیے ماحول تو پہلے سے سازگار تھا۔ جو ماحول کشمیری تنظیموں سے بنا تھا وہی ٹی ٹی پی کے کام آیا۔
ایسا ہرگز نہیں کہ پاکستان میں محض اتفاقا ایسا ہوگیا تھا۔ یہی حالیہ سالوں میں روس میں بھی ہوا۔ جس سے ثابت ہوجاتا ہے کہ جب آپ اپنے شہریوں پر مشتمل مسلح تنظیم بنانے کی غلطی کریں گے تو اس کا خمیازہ آپ کے اپنے ملک کو بھگتنا پڑے گا۔
یفگنی پریگوژن والا واگنر گروپ یاد ہے جو یوکرین میں استعمال ہوا تھا؟ یہ کوئی باقاعدہ نظریاتی تنظیم نہیں، بلکہ ایک بزنس اسکیم تھی۔ یہ گروپ 2014 میں شامی باغیوں کے خلاف بنایا گیا۔ لیکن جب روس یوکرین جنگ کی طرف گیا تو انہیں بھی کال کرلیا۔ بخموت کی فتح اسی گروپ نے حاصل کی تھی۔ چنانچہ اس کا نشہ پریگوژن کو ایسا چڑھا کہ وہ سوشل میڈیا پر ویڈیو پیغامات کے ذریعے اس وقت کے روسی وزیر دفاع ہی نہیں بلکہ اعلی فوجی کمانڈ کی بھی تذلیل کرنے لگا۔
بات یہیں تک نہ رہی بلکہ اس نے کچھ گھنٹوں کے لیے روس کے رستاف میں واقع سدرن ملٹری ڈسٹرک ہیڈکوارٹر پر بھی قبضہ کیا جس سے صدر پیوٹن کو عالمی سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔ بڑے ممالک کی گرفت بھی بڑی ہوتی ہے۔ سو پیوٹن نے جلد ہی اس مسئلے سے یوں جان چھڑا لی کہ پریگوژن ’قضائے الہی سے‘ طیارہ حادثے میں مارا گیا اور واگنر گروپ کو روس کے سخت گیر ملٹری کمانڈر سرگئی سرویکن کے سپرد کرکے افریقہ بھجوادیا۔ یہ گروپ اب افریقہ میں القاعدہ وغیرہ کے خلاف متحرک ہے اور اسے باقاعدہ ملٹری قالب میں بھی ڈھالا جا رہا ہے۔ جس کے بعد یہ واگنر گروپ نہیں بلکہ رشین ملٹری کی فارن کور بن جائے گی۔ رشین میڈیا نے اسے الریڈی ’افریقہ کور‘ کا نام دیدیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ٹرمپ کا کامیڈی تھیٹر
اس ساری تفصیل کا نچوڑ یہ نکلتا ہے کہ ہمیں صرف یہ چیلنج درپیش نہیں کہ ٹی ٹی پی اور بلوچ دہشتگرد تنظیموں کا خاتمہ کیسے کیا جائے؟ بلکہ 2 مزید چیلنجز بھی ہیں۔ ایک یہ کہ ہمیں اپنے ملک سے وہ ماحول ختم کرنا ہوگا جو پلاسٹکی ایوبیوں کے لیے سازگار ہے۔ جبکہ ان ممالک سے بھی نمٹنا ہے جو ان کے پیچھے موجود ہیں۔ صرف افغانستان نہیں انڈیا کے بارے میں بھی سوچنا ہوگا۔ وہ انڈیا جہاں ہندو اتنی آسانی سے بکنے کو تیار ہوتا ہے کہ ایک کی قیمت جیب میں رکھ کر جاؤ تو اسی قیمت میں تین مل جاتے ہیں۔ آپ سمجھ رہے ہیں ناں ہم کیا کہہ رہے ہیں؟
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا بھارت دہشتگردی دہشتگردی کا حل دہشتگردی کے اسباب کے جی بی مکتی باہنی دہشتگرد تنظیم کے نتیجے میں تنظیموں کی شہریوں کو نہیں بلکہ سی آئی اے کا نتیجہ کے جی بی ہوتی ہے میں بھی کیا تھا گیا تھا رہے ہیں کے بعد ہیں کہ یہ بات تھا کہ کے لیے
پڑھیں:
سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔
اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔
آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔
موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔
یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔
حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔
عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔
بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔
وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔