Jasarat News:
2026-06-03@04:34:45 GMT

بااثر ٹھیکے دار کو کون روکے گا؟؟

اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

برسات کے موسم میں دریا کی فکر محکمہ ٔ آب پاشی کو اس وجہ سے بھی بہت ہوتی ہے کہ یہ ان کی بے حساب کمائی کا سیزن ہوتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ دریا بادشاہ ہے اس سے کون حساب کرے؟ سو خوب لوٹا جاتا ہے۔ عوامی دور حکمرانی میں سکرنڈ کے قریب اہم دریائی بند پر بدعنوانی کی خبر لینے پہنچے تو موقع پر انجینئر نے میڈیا والوں کو دیکھ کر کہا بھائی یہ فلان بااثر شخص کا ٹھیکہ ہے میں کیا کوئی بھی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور اب حکمت عملی یہ ہے کہ ہڈی توڑ کر کھائو اور کھلائو تاکہ یہ کھانے والے کے حلق میں بھی نہ پھنسے اور جس کو بچائو خاطر کھلائو وہ بھی خوش ہوجائے، یوں دونوں راضی تو کیا کرے گا قاضی۔ اب یہ بات مجھے آئین پاکستان میں بچائو کی خاطر پے درپے ترامیم میں یاد آئیں کہ انجینئرڈ انتخابات میں اس طریقہ کار ہی سے من پسند افراد کا انتخاب کیا گیا اور آئین کی ترامیم کی سخت ہڈی جو مطلوبہ مقاصد کے لیے درکار ہے اس کے ٹکڑے کیے کچھ مقاصد 26 ویں ترمیم میں آزاد کشمیر کی حکمرانی کا لالچ دے کر اور دبائو کا حربہ آزما کر منوائی گئی اور معترضین کے حلق سے آسانی سے اُتاری گئی اور جب وہ متاثرین کو ہضم ہوگئی تو 27 ویں ترمیم میں دوسری ہڈی ایوانوں میں ذائقہ دار چورن کی صورت مولانا فضل الرحمن کو ختم نبوت کی یاد دلا کر بنگلا دیش بجھوا کر حاشیہ برداروں کے ہاتھوں قوم کے حلق میں انڈیل دی گئی اور مخالفت کورام کشمیری جام پلا کر استثنیٰ لے کر دے کر بٹوارہ سے راضی کرنے کا سامان کیا، یوں آئین کو دو طلاق دے دی گئیں اب تیسری طلاق کی تیاری ہے۔

18 ویں ترمیم کے جہیز میں جو سامان این ایف سی ایوارڈ میں نقد دیا گیا اس میں سے کچھ واپس لینے اور کچھ ملکیت میں دیے گئے شعبے تعلیم اور بہبود آبادی وغیرہ لینے کی باتوں کے ساتھ صوبوں کو توڑ کر سب حواریوں کا پیٹ بھرنے کا تذکرہ ہے۔ پی پی پی اس سے پریشان ہے کہ مال ملکیت کی کمی سیاسی کمی بھی پیدا کرے گی سو بلاول نے بھی کہہ دیا کہ کوئی مائی کا لعل 18 وین ترمیم کی کلائی مروڑ کر کچھ نہیں لے سکتا۔ سو اب دوسری طرف بھی ترامیم کے عمل کو فائنل کرنے کی بے چینی ہے کہ یہ مکمل ہو تو پھر من کی مراد پوری ہو، یہاں تک بتائے جانے کی اطلاع ہے کہ استثنیٰ صدر آصف زرداری کو ہے دوسروں کو نہیں سوچ لو! یہ کڑوا پیغام بھی پریشان کن ہے سو بات درمیانی راہ کہ مڈل میں کر رہے ہیں کہ این ایف سی ایوارڈ سے ملنے والی رقم میں سے کٹوتی کے بجائے ہم صدقہ کی صورت ہر مرتبہ کچھ فنڈ وفاق کو ریفنڈ کردیا کریں تو بات بھی بن جائے گی اور لاج بھی رہ جائے گی۔ سوچ وبچار ہو رہا کہ چلو فنڈ کا مسئلہ تو یوں حل ہو جائے گا مگر صوبوں میں تقسیم کا فارمولا جو صوبائی اسمبلی میں پہلے دو تہائی اکثریت سے پاس کرنے کی بات آئین میں لکھی گئی ہے صوبہ سندھ کی اسمبلی میں اس پر عمل مشکل تر ہے تو کیوں ناں 28 ویں ترمیم میں صوبوں کے اس اختیار کو ختم کرکے اس اسپیڈ بریکر کی رکاوٹ کو اکھاڑ پھنکا جائے۔ کھلاڑی اپنے اپنے پتے کھیل رہے ہیں ماہرین نئے سال کو نئے روپ میں دیکھ رہے ہیں کہ کیا ہوگا؟ یہ ربّ کو پتا ہے کہ کس کا پتا کامیاب ہو گا اور وہ بازی جیت لے گا۔

اب مجھے اس انجینئر کی بات آئین کی ترمیم کے سلسلے میں رہ رہ کر یاد آرہی ہے ملک میں مہنگائی کے سیلاب کی ذمے دار بقلم خود بنے اور دہشت گردی کے عذاب کے روک تھام کے لیے بند کا ٹھیکہ جن کے پاس ہے اس کو کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں، اس کے پاس امریکی صدر کی تحسین کارکردگی کی سند ہے اور وہ ایوانوں کے ارکان میں ترمیم کی بڑی ہڈی نہیں ٹھونس رہا بلکہ ہڈی توڑ کر حصہ بقدر جثہ دے رہا ہے۔ پچکار رہا ہے تو حکومت کے تحفہ کے ساتھ ڈانٹ رہا ہے، بات منوا رہا ہے اور خدانخواستہ اس بندوبست کا وہی حشر ہوا جو دریا کے بند کی پختہ کاری کا دیکھنے کو ملا کہ ایک ہی ریلے نے بند کے بخیے اکھیڑ دیے تھے کہیں عوام کا سیلاب امڈے اور پھر کہنے والے گنگنائیں دل کے ارمان آنسوؤں میں بہہ گئے۔

عبدالتواب شیخ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ویں ترمیم رہا ہے

پڑھیں:

ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔

https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247

قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی