لاہور:

پاکستان ریلویز نے مسافروں کو سفری سہولیات فراہم کر نے کیلیے مزید 11 ٹرینوں کی آؤٹ سورسنگ کا فیصلہ کیا ہے ان 11 ٹرینوں کی آؤٹ سورسنگ کی اوپن نیلامی 3 دسمبر کو پاکستان ریلویز ہیڈکوارٹر میں ہوگی۔

پاکستان ریلویز انتظامیہ نے مسافروں کو جدید سہولیات فراہم کرنے کے لیے ریلوے اسٹیشن کی اپ گریڈیشن کے ساتھ ساتھ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت مزید 11 ٹرینوں کی آئوٹ سورسنگ پر عملدرآمد شروع کر دیا ہے۔

نیلامی میں حصہ لینے والوں نے آؤٹ سورسنگ کے قوانین کے تحت اپنی دستاویزات ریلویز انتظامیہ کو جمع کرا دی ہیں جن کی جانچ پڑتال کا کام جاری ہے۔

نیلامی میں حصہ لینے والی کمپنیوں کی دستاویزات کی جانچ پڑتال مکمل ہونے کے بعد 3 دسمبر کو اوپن بولی کی جائے گی جو کمپنی سب سے زیادہ بولی دے گی ٹرین کی سروسز اس کو مل جائے گی۔

جن ٹرینوں کی آئوٹ سورسنگ کی جائے گی ان میں ہزارہ ایکسپریس، ملت ایکسپریس، بہاالدین زکریہ ایکسپریس، فرید ایکسپریس، بدر ایکسپریس، غوری ایکسپریس ،راوی ایکسپریس ،تھل ایکسپریس میانوالی ایکسپریس، فیض احمد فیض پسنجر ،منجو دوڑو پسنجر ٹرین شامل ہیں۔

واضح رہے کہ ریلوے انتظامیہ اس سے قبل 8 ٹرینوں کو آئوٹ سورس کر چکی ہے جن میں شالیمار پاک بزنس سمیت دیگر ٹرینیں شامل ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ٹرینوں کی

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ