ریلوے کا مزید 11ٹرینوں کی آؤٹ سورسنگ کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان ریلویز نے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت مزید 11 ٹرینوں کی آؤٹ سورسنگ کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے اوپن نیلامی 3 دسمبر کو ریلویز ہیڈ کوارٹر میں ہوگی۔ نجی ٹی وی کے مطابق نیلامی میں حصہ لینے والوں نے آؤٹ سورسنگ کے قوانین کے تحت اپنی دستاویزات ریلویز انتظامیہ کو جمع کرا دی ہیں جن کی جانچ پڑتال کا کام جاری ہے نیلامی میں حصہ لینے والی کمپنیوں کی دستاویزات کی جانچ پڑتال مکمل ہونے کے بعد 3 دسمبر کو اوپن بولی کی جائے گی جو کمپنی سب سے زیادہ بولی دے گی ٹرین کی سروسز اس کو مل جائے گی۔ جن ٹرینوں کی آؤٹ سورسنگ کی جائے گی ان میں ہزارہ ایکسپریس، ملت ایکسپریس، بہاء الدین زکریہ ایکسپریس، فرید ایکسپریس، بدر ایکسپریس، غوری ایکسپریس، راوی ایکسپریس، تھل ایکسپریس، میانوالی ایکسپریس، فیض احمد فیض پسنجر، موہنجودوڑو پسنجر ٹرین شامل ہیں۔ قبل ازیں ریلوے انتظامیہ 8 ٹرینوں کو آؤٹ سورس کرچکی ہے جن میں شالیمار پاک بزنس سمیت دیگر ٹرینیں شامل ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔