ریلوے کا مزید 11ٹرینوں کی آؤٹ سورسنگ کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان ریلویز نے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت مزید 11 ٹرینوں کی آؤٹ سورسنگ کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے اوپن نیلامی 3 دسمبر کو ریلویز ہیڈ کوارٹر میں ہوگی۔ نجی ٹی وی کے مطابق نیلامی میں حصہ لینے والوں نے آؤٹ سورسنگ کے قوانین کے تحت اپنی دستاویزات ریلویز انتظامیہ کو جمع کرا دی ہیں جن کی جانچ پڑتال کا کام جاری ہے نیلامی میں حصہ لینے والی کمپنیوں کی دستاویزات کی جانچ پڑتال مکمل ہونے کے بعد 3 دسمبر کو اوپن بولی کی جائے گی جو کمپنی سب سے زیادہ بولی دے گی ٹرین کی سروسز اس کو مل جائے گی۔ جن ٹرینوں کی آؤٹ سورسنگ کی جائے گی ان میں ہزارہ ایکسپریس، ملت ایکسپریس، بہاء الدین زکریہ ایکسپریس، فرید ایکسپریس، بدر ایکسپریس، غوری ایکسپریس، راوی ایکسپریس، تھل ایکسپریس، میانوالی ایکسپریس، فیض احمد فیض پسنجر، موہنجودوڑو پسنجر ٹرین شامل ہیں۔ قبل ازیں ریلوے انتظامیہ 8 ٹرینوں کو آؤٹ سورس کرچکی ہے جن میں شالیمار پاک بزنس سمیت دیگر ٹرینیں شامل ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
واشنگٹن:امریکی سینیٹ میں ایران سے متعلق پالیسی پر اس وقت گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی جب ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو سخت سوالات کی زد میں لے لیا۔
سینیٹ اجلاس کے دوران کوری بُکر نے حکومت کی ایران پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر امریکا کیوں ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی طرف دوبارہ بڑھ رہا ہے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب ماضی میں اسی ڈیل کو خود امریکا ناقابل قبول قرار دے چکا تھا۔
سینیٹر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کیا واشنگٹن اب اس معاہدے کے لیے دباؤ کا شکار ہو رہا ہے جسے پہلے مسترد کیا جا چکا تھا۔
بُکر نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق اقدامات اور خطے کی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے اس کے باوجود سفارتی راستہ کس بنیاد پر اختیار کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیںایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
جواب میں وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکا ایران سے کسی بھیک کی پوزیشن میں نہیں بلکہ یہ ایک پیچیدہ سفارتی اور تکنیکی عمل ہے۔
ان کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات جذباتی نہیں بلکہ انتہائی تکنیکی نوعیت کے ہیں، جو چند دنوں میں مکمل نہیں ہو سکتے۔
روبیو نے کہا کہ ماہرین کی سطح پر بات چیت ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتی ہے تاکہ ایک قابلِ عمل حل نکالا جا سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اب ان بعض امور پر بات کرنے پر آمادہ ہوا ہے جن سے پہلے وہ انکار کرتا رہا ہے، خصوصاً افزودہ یورینیم کے معاملے پر پیش رفت کی ضرورت ہے۔