data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان میں تیزی سے بڑھتے ہوئے سائبر خطرات اور ڈیجیٹل جرائم کے پیش نظر وفاقی حکومت نے ملک بھر میں ایک مرکزی سائبر سیکورٹی اتھارٹی قائم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے جو مستقبل میں قومی ڈیٹا، سرکاری اداروں اور حساس معلومات کے تحفظ میں بنیادی ستون کا کردار ادا کرے گی۔

مجوزہ ادارے کا مقصد نہ صرف جدید سیکورٹی نظام تشکیل دینا ہوگا بلکہ ایسے معیاری طریقہ کار بھی وضع کیے جائیں گے جو اہم قومی انفرا اسٹرکچر کو ممکنہ سائبر حملوں سے محفوظ رکھنے میں معاون ثابت ہوں۔

اس حوالے سے وزارتِ آئی ٹی کی جانب سے تیار کیا گیا سائبر سیکورٹی ایکٹ کا ابتدائی مسودہ متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو بھجوا دیا گیا ہے تاکہ مختلف اداروں کی تجاویز، خدشات اور سفارشات کو شامل کیا جاسکے۔

حکومت اس قانون کے لیے پیکا میں مزید ترامیم بھی تجویز کر رہی ہے، جن کے ذریعے سائبر جرائم کی مختلف اقسام، ڈیجیٹل نگرانی اور مواد کے ضابطہ کار کے معاملات کو بہتر طریقے سے منظم کیا جاسکے گا۔

مسودے کی اہم تجویز ’ڈیجیٹل رائٹس پروٹیکشن اتھارٹی‘ کے قیام سے متعلق ہے، جو ملک میں آن لائن مواد کی نگرانی، جعلی خبروں کے پھیلاؤ پر قابو اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر غلط معلومات کے خلاف کارروائی کے اختیارات رکھے گی۔

اس مجوزہ اتھارٹی کے ذریعے ایک خصوصی تحقیقاتی ایجنسی بھی قائم کی جائے گی جو سائبر کرائم کی مختلف جدید اقسام، ہیکنگ حملوں، فراڈ اور ریاستی اداروں کے خلاف چلنے والی آن لائن سرگرمیوں کی تحقیقات کرے گی۔

حکام کے مطابق یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا جا رہا ہے جب پاکستان مسلسل شدید نوعیت کے سائبر حملوں کا سامنا کر رہا ہے۔ صرف 2025 کی پہلی 3 سہ ماہیوں میں ساڑھے 53 لاکھ سے زائد سائبر حملے رپورٹ ہوئے، جن میں سرکاری محکموں کے ڈیٹا سسٹمز، مالیاتی اداروں، صحت، توانائی اور دیگر شعبوں پر ہونے والی کوششیں بھی شامل تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اتھارٹی کے قیام سے پاکستان کے سائبر دفاعی ڈھانچے میں ایک اہم خلا پُر ہوسکے گا، تاہم آن لائن مواد کی ریگولیشن اور اختیارات کے دائرہ کار کے حوالے سے مختلف حلقوں کی تشویش بھی سامنے آ رہی ہے۔ آنے والے ہفتوں میں اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے بعد قانون کا حتمی ڈرافٹ تیار کیے جانے کا امکان ہے، جس کے بعد اسے منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: آن لائن

پڑھیں:

سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان

پشاور: سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کے حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے صوبے کے پنشنرز کی نیٹ پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا، جبکہ اس حوالے سے محکمہ خزانہ نے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔

جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ اضافہ 30 جون 2026 تک وصول کی جانے والی نیٹ پنشن کی بنیاد پر دیا جائے گا۔ حکومت کے اس اقدام سے لاکھوں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو مہنگائی کے موجودہ دور میں مالی سہارا ملنے کی امید ہے۔

نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین بھی اس 7 فیصد اضافے سے مستفید ہوں گے۔ اسی طرح فیملی پنشن حاصل کرنے والے افراد اور کمپیشنٹ الاؤنس لینے والے مستحقین پر بھی یہ اضافہ یکساں طور پر لاگو ہوگا۔

محکمہ خزانہ کے مطابق بیرون ملک مقیم وہ پنشنرز بھی، جو خیبرپختونخوا حکومت کی پنشن کے اہل ہیں، مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت اس اضافے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ اضافہ پہلے سے دی جانے والی کسی بھی خصوصی اضافی پنشن پر لاگو نہیں ہوگا، بلکہ صرف بنیادی نیٹ پنشن کی بنیاد پر ادا کیا جائے گا۔

ماہرین کے مطابق سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کا یہ فیصلہ بڑھتی مہنگائی کے پیش نظر ریٹائرڈ ملازمین کے لیے اہم ریلیف ثابت ہوگا اور ان کے ماہانہ اخراجات پورے کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ
  • حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • موبائل سم صار فین ہوشیار ، پی ٹی اے کا اہم انتباہ جار ی
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان