بنوں: سیکورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مشترکہ آپریشن، 8 دہشتگرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں سیکورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ضلع مشترکہ انٹیلی جنس بنیاد پر آپریشن کے دوران فتنۃ الخوارج کے 8 دہشتگرد ہلاک کردیے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بنوں میں سیکیورٹی فورسز نے فتنۃ الخوارج کے ٹھکانوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا جب کہ شدید فائرنگ کے تبادلے میں بھارتی پراکسی فتنۃ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 8 دہشت گرد ہلاک کردیے۔
A post shared by ISPR Official (@isprofficial1)
ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کرلیا گیا۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ یہ دہشت گرد سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف متعدد دہشت گردانہ کارروائیوں اور بے گناہ شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھے۔
ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ یہ آپریشن سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مضبوط اور مربوط تعاون کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید کہا کہ حالیہ عرصے میں علاقے میں انٹیلیجنس کی بنیاد پر کارروائیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، ہم آہنگ اور مربوط سیکیورٹی اقدامات خوارج کی عملی نقل و حرکت کو محدود کرنے کےلئے ترتیب دیئے گئے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فتنۃ الخوارج کے سہولت کار نیٹ ورکس کو منظم انداز میں تباہ کرنے اور ان کی دوبارہ تنظیم کی صلاحیت کو کم کرنے کےلئے سیکیورٹ اقدامات کئے جارہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: قانون نافذ کرنے والے اداروں فتنۃ الخوارج
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔ نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔ ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔