کرم: سکیورٹی فورسز کی بڑی کاروائیاں، بھارتی حمایت یافتہ فتنۃ الخوارج کے 23 دہشت گرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
کرم میں سکیورٹی فورسز کے 2 کامیاب آپریشنز میں بھارتی حمایت یافتہ فتنۃ الخوارج کے 23 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 19 نومبر 2025 کو خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں 2 علیحدہ آپریشنز کے دوران بھارتی پراکسی فتنۃ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 23 خوارج مارے گئے۔ ترجمان پاک فوج کے مطابق خوارج کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر سکیورٹی فورسز نے ٹارگٹڈ آپریشن کیا۔ کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ اس دوران شدید فائرنگ کے تبادلے میں 12 خوارج ہلاک ہو گئے۔ آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق اسی علاقے میں ایک اور خوارج گروہ کی موجودگی کی اطلاعات پر دوسرا آپریشن کیا گیا، جس میں سکیورٹی فورسز نے مزید 11 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عزم استحکام کے وژن کے تحت علاقے میں کسی بھی بھارتی حمایت یافتہ خوارج کے خاتمے کے لیے آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ ملک میں غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرات کو جڑ سے اکھاڑ دیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سکیورٹی فورسز حمایت یافتہ
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔