Islam Times:
2026-06-02@22:46:33 GMT

امریکہ مذاکرات میں سنجیدہ نہیں، سید عباس عراقچی

اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT

امریکہ مذاکرات میں سنجیدہ نہیں، سید عباس عراقچی

اپنے ایک انٹرویو میں ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان گہرا اعتماد پایا جاتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ "سید عباس عراقچی" نے کہا کہ ہم ہمیشہ جوہری پروگرام پر مذاکرات کے لئے تیار ہیں۔ مگر مذاکرات میں اصل رکاوٹ امریکہ کا رویہ ہے۔ امریکی فریق ہی ہے جس نے حقیقی اور منصفانہ مذاکرات کے لیے کبھی سنجیدہ رویہ نہیں اپنایا۔ وہ مذاکرات کی بجائے ڈکٹیشن اور اپنی مرضی مسلط کرنا چاہتا ہے۔ سید عباس عراقچی نے ان خیالات کا اظہار فرانس24 کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ ماضی میں ریاض اور تہران کے درمیان کشیدگی کے باوجود، واشنگٹن_تہران کے درمیان ثالث کے طور پر سعودی عرب کے کردار کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اب ایران اور سعودی عرب کے درمیان گہرا اعتماد پایا جاتا ہے۔ انہوں نے اس امر کی بھی یقین دہانی کروائی کہ ان کا امریکی صدر کے نمائندہ خصوصی "اسٹیو وٹکوف" یا سیکرٹری خارجہ "مارکو روبیو" سے حال ہی میں کوئی رابطہ نہیں ہوا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک امریکہ، حقیقی مذاکرات کے لیے تیار نہیں، ایران کو بھی كوئی جلدی نہیں۔

اس موقع پر انہوں نے جاسوسی کے الزام میں قید دو فرانسوی شہریوں "سیسل کوهلر" اور "جیک پیرس" کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں اس بات کی تصدیق کی کہ مذکورہ قیدیوں کی حوالگی، تبادلے کے تناظر میں انجام پا رہی ہے۔ واضح رہے کہ دونوں مذکورہ قیدیوں کو حال ہی میں جیل سے رہا کیا گیا، لیکن یہ اب بھی ایران میں نظر بند ہیں۔ اسی سلسلے میں سید عباس عراقچی نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے اور میرے خیال میں اگلے دو ماہ کے اندر عدالتی طریقہ کار کو مدنظر رکھتے ہوئے، یہ تبادلہ مکمل ہو جائے گا۔ ایران کی جانب سے سب کچھ تیار ہے اور تہران اب فرانس میں عدالتی عمل کے اختتام کا انتظار کر رہا ہے۔ اسی ضمن میں فرانس24 نے رپورٹ دی کہ ان شہریوں کے بدلے میں ایک ایرانی شہری "مہدیہ اسفندیاری" كو رہا کیا جائے گا جنہیں فرانس میں دہشت گردی کی تبلیغ کے الزام میں حراست میں لیا گیا۔ ان کی عدالتی سماعت جنوری کے وسط میں طے کی گئی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ایران رواں برس جون کے مہینے میں امریکہ و اسرائیل کے خلاف جنگ میں فاتح کے طور پر ابھرا۔ ایرانی جوہری تنصیبات پر دوبارہ اسرائیلی حملے کے ارادے کے بارے میں سید عباس عراقچی نے کہا کہ اگر آپ پہلے ہی ایک اقدام اٹھا چکے ہیں اور وہ ناکام ہو چکا ہے، تو عقل یہ کہتی ہے کہ اسے دُہرانے سے آپ دوبارہ صرف شکست کا ہی مزہ چکھیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سید عباس عراقچی کے درمیان انہوں نے کہا کہ

پڑھیں:

واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع

اسرائیل کی جانب سے لبنان پر خون ریز حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان واشنگٹن میں مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق لبنان اور اسرائیل کے درمیان واشنگٹن میں شروع ہونے والے مذاکرات جنگ بندی مذاکرات کا تسلسل اور چوتھا دور ہے۔

لبنان کی سرکاری خبرایجنسی نے بتایا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا چوتھا دور واشنگٹن میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ہیڈکوارٹرز میں شروع ہوگئے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ مذاکرات کے لیے دونوں فریق کے نمائندے واشنگٹن پہنچے، جس کے بعد مذاکرات شروع ہوئے ہیں۔

قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو لبنان پر حملوں کے حوالے سے ٹیلی فون پر سخت الفاظ کا استعمال کیا تھا۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو پاگل قرار دیا اور کہا کہ ہر کوئی تم سے نفرت کرتا ہے، اسی وجہ سے لوگ اسرائیل سے بھی نفرت کرتے ہیں۔

دوسری جانب لبنان پر اسرائیل کے حملے جاری ہیں جہاں جنوبی لبنان کے بڑے شہروں میں سے ایک نباطیہ پر شدید بم باری کی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟