جائیداد کے لالچ میں شوہر کے قتل کا معما حل, اصل قاتل اہلیہ آشنا اور ساتھی سمیت گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
راولپنڈی میں تھانہ بنی کی حدود میں ایک ماہ قبل ہونے والے شہری کے اندھے قتل کا معما پولیس نے حل کرلیا، واردات میں مقتول کی اہلیہ، اس کا آشنا اور ایک ساتھی ملوث نکلے جنہیں گرفتار کرلیا گیا۔ پولیس کے مطابق وقار احمد کو منصوبہ بندی کے تحت نشانہ بنایا گیا، ملزمان نے مقتول کی گاڑی روک کر فائرنگ کی جس سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔ تفتیش کے آغاز میں مقدمے میں شامل کی گئی ایک خاتون کا واقعے سے کوئی تعلق ثابت نہ ہوسکا۔ کیس کی سمت متعین کرنے کے لیے پولیس نے سیکڑوں سی سی ٹی وی کیمروں، ٹیکنیکل ذرائع اور ہیومن انٹیلی جنس سے مدد حاصل کی جس کے بعد مقتول کی اہلیہ اور آشنا پر شکوک بڑھتے گئے، دونوں بعد ازاں واردات میں براہ راست ملوث ثابت ہوئے۔ پولیس کے مطابق آشنا نے اپنی دکان پر کام کرنے والے ملازم کے ساتھ مل کر جائیداد اور رقم کے لالچ میں وقار احمد کے قتل کی منصوبہ بندی کی، جس کا ملزمان نے دورانِ تفتیش اعتراف بھی کرلیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان عدالت میں پیش کیا جائے گا تاکہ ملزمان کو قرار واقعی سزا دلائی جاسکے۔ سی پی او سید خالد ہمدانی نے تفتیش پر پولیس ٹیم کو سراہتے ہوئے کہا کہ شہریوں کی جان و مال پر حملہ کرنے والے قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔