وژن 2030 ء تک ٹریفک نظام خود کار طریقے سے چلایا جائے گا، پیر محمد شاہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) ڈپٹی انسپکٹر جنرل ٹریفک پیر محمد شاہ نے کہا کہ ہے ای چالان سے ٹریفک کے نظام میں نمایاں بہتری آئی ہے کراچی میں سوا ارب روپے مالیت کے 400 جدید سگنلز کی ضرورت ہے، وژن ہے2030 تک شہر میں کوئی ٹریفک پولیس اہلکار شاہراہوں پر ڈیوٹی نہ دے بلکہ سارا نظام خود کار طریقے سے چلایا جائے، ہیلمٹ، سیٹ بیلٹ اور سنگل پر رکنے کا رجحان بڑھا ہے۔ ای چالان کا اعلان کاٹی میں ہی کیا تھا، گزشتہ ایک ماہ میں 58 فیصد چالان لگژری گاڑیوں کے ہوئے جبکہ ٹریفک کا 60 فیصد حصہ موٹرسائیکلوں پر مشتمل ہے ان کے صرف 23 فیصد چالان ہوئے۔ سندھ کے بارے میں غلط تاثر دیا جارہا ہے کہ لاہور کے مقابلے چالان کی رقم زیادہ ہے۔ لاہور میں موٹرسائیکل کا چالان 2000 روپے کا ہے جبکہ سندھ میں 2500 کا چالان ہے۔ سندھ میں چالان کی قیمت 5000 رکھی گئی ہے لیکن 14 دن کے اندر ادائیگی کرنے پر 50 فیصد ڈسکاؤنٹ ہے جو لاہور میں موجود نہیں۔پیر محمد شاہ نے مزید کہا کہ پیر سے شہریوں کی سہولت کیلئے چیٹ باٹ کا آغاز کیا جارہا ہے جو چالان سمیت تمام معلومات فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو تجویز دی ہے کہ کراچی ٹریفک مینجمنٹ کمپنی (کے ٹی ایم سی) کا ایک ادارہ قائم کیا جائے جسے چالان سے جمع ہونے والی رقم کا حصہ دیا جائے جو شہر کے انفراسٹرکچر کو ٹھیک کرنے میں استعمال کیا جائے گا تاکہ شہریوں کی شکایات دور ہوسکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء
پشاور (بیورو رپورٹ) وزیراعلیٰ خیبر پی کے محمد سہیل آفریدی نے ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا باضابطہ اجراء کر دیا۔ جو 5 سٹریٹجک ستونوں، 9کلیدی اہداف، 32 تھیمیٹک ڈومینز، 915 سٹریٹجک اقدامات پر مشتمل ہے۔اس پالیسی کے تحت حکومتی خدمات مرحلہ وار آن لائن اور Citizen-Centric بنائے جائیں گی۔ پیپر لیس گورننس کے ذریعے شفافیت، جوابدہی اور سرکاری کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کو AI اور ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت دی جائے گی۔ گرین آئی سی ٹی، کاربن فٹ پرنٹ میں کمی اور کاربن کریڈٹ رجسٹری پر کام کیا جائے گا۔ ڈیجیٹل اصلاحات سے عوام کو سرکاری دفاتر کے غیر ضروری چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔