سہیل آفریدی کا الزام: وفاقی حکومت کرپشن کے پیسے سے بیرون ملک جزیرے خرید رہی ہے
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے 5 ہزار 300 ارب روپے کی کرپشن کی ہے، اور ان میں سے کوئی بھی رقم اپنے ذاتی وسائل سے نہیں آئی، بلکہ یہ عوام کے ٹیکس کے پیسے ہیں۔ ان کے مطابق یہ رقم اب بیرون ملک جزیرے خریدنے میں خرچ کی جا رہی ہے، اور عوام کو اپنے حکمرانوں سے اس بارے میں جواب طلب کرنا چاہیے۔
یہ بیان انہوں نے یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پشاور میں جاب فیئر 2025 کے دوران دیا، جہاں وہ مہمان خصوصی کے طور پر موجود تھے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ اس پروگرام کے ذریعے دو ہزار اسٹوڈنٹس باضابطہ ایمپلائز کے طور پر رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے لیے ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام اور انٹرنشپ پالیسی کا بھی اعلان کیا اور یقین دہانی کرائی کہ حکومت اپنے نوجوانوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔
سہیل آفریدی نے طلبہ سے مخاطب ہو کر کہا کہ وہ اپنی توانائی بچا کر رکھیں کیونکہ آگے بہت کام باقی ہے، اور آئندہ پروگراموں میں اردو زبان کے استعمال پر زور دیا تاکہ لوگوں کو پتہ چلے کہ خیبر پختونخوا میں مثبت اقدامات ہو رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی بہنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انجینئرنگ میں وہ بھی مضبوط ہیں اور وہ ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے بھی بات کی، کہا کہ ضم شدہ علاقوں کو ان کا جائز حصہ نہیں دیا جا رہا، حالانکہ 14.
سہیل آفریدی نے پی ٹی آئی کے چیئرمین کے حوالے سے کہا کہ انہیں ناحق جیل میں رکھا گیا ہے، اور القادر یونیورسٹی کے خلاف بھی کیسز بنائے گئے جہاں سیرت النبی ﷺ پڑھائی جاتی ہے، مگر میڈیا اس پر خاموش ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ اپنے آخری خون تک عوام کے حقوق کے لیے کھڑے رہیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سہیل ا فریدی انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔