بھارت میں تعلیم کو مذہب کا رنگ دیا جا رہا ہے، عمر عبداللہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
انہوں نے سوال کیا کہ ملک کا سیکولر آئین کہا ہے کیونکہ تعلیمی اداروں میں اب بچوں کی قابلیت کی بجائے مذہب کی بنیاد پر داخلوں سے متعلق فیصلے کئے جا رہے ہیں؟ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں وزیراعلی عمر عبداللہ نے مقبوضہ علاقے میں شری ماتا ویشنو دیوی انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل ایکسیلنس میں مذہبی بنیادوں پر طلباء کے داخلوں پر کڑی تنقید کی ہے۔ ذرائع کے مطابق میڈیکل انسٹیٹیوٹ نے رواں تعلیمی سال کے لیے ایم بی بی ایس کی 50 نشستوں کی منظوری دی تھی۔ 50 میں سے 42نشستیں مسلم طلباء کو میرٹ کی بنیاد پر الاٹ کی گئیں، جس پر دائیں بازو کے ہندوتوا گروپوں اور بی جے پی نے احتجاج شروع کر دیا ہے۔ وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بی جے پی رہنمائوں کے ان بیانات کہ "میڈیکل انسٹیٹیوٹ میں ہندو طلباء کو داخلے کا بنیادی حق حاصل ہونا چاہیے کیونکہ انسٹی ٹیوٹ کو ماتا ویشنو دیوی مندر سے حاصل ہونے والے عطیات کے ذریعے چلایا جاتا ہے" کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت میں تعلیم کو مذہب کا رنگ دیا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ میڈیکل کالجوں میں بھی یہ کہا جاتا ہے کہ مسلمان یا غیر ہندوئوں کو وہاں تعلیم حاصل نہیں کرنی چاہیے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ملک کا سیکولر آئین کہا ہے کیونکہ تعلیمی اداروں میں اب بچوں کی قابلیت کی بجائے مذہب کی بنیاد پر داخلوں سے متعلق فیصلے کئے جا رہے ہیں؟ اس سے قبل پیر کو عمر عبداللہ نے ہندوتوا گروپوں کے احتجاج کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ طلباء کا انتخاب خالصتا میرٹ پر کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کے آئین میں لفظ سیکولر موجود ہے اور اگر حکومت ملک کے سیکولر کردار کو برقرار رکھنا نہیں چاہتی تو اسے آئین سے حذف کر دینا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت تمام فیصلے مذہب کی بنیاد پر کرے گی تو سماجی بہبود کی اسکیموں کا کیا ہو گا۔ کیا اب ملک میں مذہب کی بنیاد پر راشن تقسیم کیا جائے گا اور کیا پولیس والے مذہب کی بنیاد پر اپنی ڈیوٹیاں سرانجام دیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مذہب کی بنیاد پر عمر عبداللہ انہوں نے
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :