عراقی کردستان کی بڑی خور مور گیس فیلڈ پر ڈرون حملہ، پاور اسٹیشنز کو سپلائی معطل
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
عراق کے کردستان علاقے میں واقع بڑی خور مور گیس فیلڈ ڈرون حملے کی زد میں آگئی، جس کے نتیجے میں شدید آگ بھڑک اٹھی اور متعدد ملازمین زخمی ہوگئے۔ واقعے کے بعد گیس فیلڈ میں تمام آپریشنز فوری طور پر معطل کر دیے گئے ہیں تاکہ مزید نقصان سے بچا جاسکے۔
ذرائع کے مطابق ڈرون حملے کے باعث گیس فیلڈ سے علاقے کے مختلف پاور اسٹیشنز کو فراہم کی جانے والی گیس سپلائی بھی روک دی گئی ہے، جس سے بجلی کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے فوری طور پر مقامِ وقوعہ کا کنٹرول سنبھال کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے جبکہ تکنیکی ٹیمیں نقصان کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہیں۔
وزارتِ قدرتی وسائل اور وزارتِ بجلی نے تصدیق کی ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کا تعین کیا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: گیس فیلڈ
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔