عمران خان کیخلاف مقدمات کی سماعت میں تاخیر پر احتجاج ہر منگل کو کیوں؟ پی ٹی آئی نے وجہ بتادی
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
خیبر پختونخوا کی حکمران جماعت پاکستان تحریکِ انصاف نے عمران خان کے مقدمات کی سماعت میں مبینہ تاخیر اور ملاقات نہ ہونے کے خلاف اسلام آباد میں پرامن احتجاج شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
احتجاج ہر منگل کو ہوگا، جس کے لیے قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ کے ارکان کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر پُرامن احتجاج میں شرکت یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے مطابق پی ٹی آئی کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ کے خلاف مقدمات کی سماعت میں تاخیر ہو رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کے کیسز سننے میں تاخیر پر پی ٹی آئی کا اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر احتجاج کا اعلان
پشاور کے حیات آباد میں 26 نومبر کے حوالے سے منعقدہ ایک پارٹی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس تناطر میں پارٹی نے احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ فیصلے کے مطابق تمام منتخب اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹرز پہلے اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر جمع ہوں گے اور دوپہر ایک بجے تک پُرامن احتجاج کریں گے۔
جبکہ ایک بجے کے بعد یہ منتخب اراکین عمران خان کی بہنوں کے ساتھ اڈیالہ جیل جائیں گے اور وہاں جیل کے باہر بطور پُرامن احتجاج بیٹھیں گے۔
مزید پڑھیں: عمران خان سیاسی قیدی نہیں، دباؤ ڈال کر این آر او حاصل کرنا چاہتے ہیں، وفاقی وزرا کی غیرملکی میڈیا سے گفتگو
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے پی ٹی آئی کی ضلعی قیادت اور ورکرز سے درخواست کی کہ منتخب اراکین پر کڑی نظر رکھی جائے اور ان کی حاضری یقینی بنائی جائے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ عمران خان کی رہائی کے لیے تحریک جاری ہے اور وہ خود جمعرات کو اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کے لیے جائیں گے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان کی رہائی کی تحریک میں تیزی لائی جائے اور ہر منگل کو احتجاج ہونا چاہیے۔ انہوں نے 7 دسمبر کو پشاور میں ایک جلسے کا بھی اعلان کیا۔
صرف ہر منگل کو احتجاج کیوں؟پی ٹی آئی کے مطابق ہر منگل کو اسلام آباد ہائیکورٹ اور اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا فیصلہ پارٹی کا ہے اور سہیل آفریدی منتخب اراکین اور کابینہ ممبران کی شرکت یقینی بنانے کی کوشش کریں گے۔
ان کے مطابق ہر منگل صرف منتخب اراکین کو شرکت کی ہدایت کی گئی ہے، البتہ ورکرز چاہیں تو شریک ہو سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں:عمران خان کو 9 مئی کے مقدمات میں ضمانت کیوں نہیں دی جاسکتی؟ تحریری فیصلہ جاری
پی ٹی آئی ضلع پشاور کے ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات اکرام کٹھانہ نے بتایا کہ پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے سرگرم ہے اور ہر منگل کو پُرامن احتجاج اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
ان کے مطابق عمران خان کی بہنیں ہر منگل اور جمعرات کو مقدمات اور ملاقات کے سلسلے میں اسلام آباد ہائیکورٹ اور اڈیالہ جیل آتی ہیں اور ان کی سپورٹ اور حوصلہ افزائی کے لیے پارٹی نے ہر منگل کو احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی احتجاج میں اب اجتماعی استخارہ ہوگا، شیرافضل مروت کا طنز
انہوں نے مزید بتایا کہ عمران خان کی بہنوں کو بھی ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، جس پر وہ اور پارٹی ورکرز عمران خان کی صحت کے حوالے سے تشویش میں مبتلا ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی رہائی تک یہ تحریک جاری رہے گی اور پارٹی ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ کھڑی رہے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل اسلام آباد ہائیکورٹ اکرام کٹھانہ پارٹی ورکرز پی ٹی آئی سہیل آفریدی علیمہ خان عمران خان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اڈیالہ جیل اسلام ا باد ہائیکورٹ پارٹی ورکرز پی ٹی ا ئی سہیل ا فریدی علیمہ خان اسلام آباد ہائیکورٹ عمران خان کی رہائی کہ عمران خان کی منتخب اراکین سہیل آفریدی اڈیالہ جیل ہر منگل کو احتجاج کا پی ٹی آئی کے مطابق انہوں نے کے باہر کے لیے
پڑھیں:
زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سال 2026 کے لیے موسم گرما کی تعطیلات سے متعلق بڑا انتظامی فیصلہ کرلیا ہے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق عدالتی کارکردگی میں بہتری اور زیر التوا مقدمات کے جلد از جلد فیصلوں کو یقینی بنانے کے لیے تعطیلات کا نیا شیڈول مرتب کیا گیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ اہم فیصلہ چیف جسٹس پاکستان کی درخواست اور ججز کے درمیان باہمی مشاورت کے بعد کیا گیا۔
نئے انتظامات کے تحت سپریم کورٹ کے ججز نے موسم گرما کی تعطیلات کے دوران اسلام آباد میں واقع پرنسپل سیٹ پر کام کے دورانیے میں اضافے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔
اعلامیے کے مطابق ماضی کی روایت کے برعکس اس بار سپریم کورٹ کی برانچ رجسٹریوں میں ججز کے بیٹھنے کے وقت میں کمی کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
تاہم ججز کی جانب سے اصل میں حاصل کی جانے والی تعطیلات کا دورانیہ گزشتہ برسوں کی طرح 4 ہفتے ہی برقرار رہے گا۔
سپریم کورٹ کے اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ نئے انتظامات کا بنیادی مقصد تعطیلات کے دوران بھی ججز کی دستیابی کو یقینی بنانا اور مقدمات کی سماعت کے عمل کو بلا تعطل جاری رکھنا ہے تاکہ زیر التوا کیسز کے بروقت فیصلوں میں مدد مل سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews انتظامی فیصلہ تعطیلات سپریم کورٹ وی نیوز