WE News:
2026-07-24@00:54:33 GMT

ایلون مسک نے ایکس صارفین کو گروک اپڈیٹ کرنے کی ہدایت کیوں دی؟

اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT

ایلون مسک نے ایکس صارفین کو گروک اپڈیٹ کرنے کی ہدایت کیوں دی؟

ایلون مسک نے ایکس (سابقہ ٹوئیٹر) صارفین کو اپنی ایپ فوری اپڈیٹ کرنے کی ہدایت دی، کیونکہ اپڈیٹ کے بعد Following Timeline میں پوسٹس کیGrok AI کے ذریعے درجہ بندی ہو گی۔ صارفین چاہیں تو پرانے کرونولوجیکل فیڈ پر بھی واپس جا سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: دھرمیندر کی مسکراہٹ اور شفقت کبھی نہیں بھول سکوں گی، ارچنا پورن سنگھ

ان کے مطابقGrok 4.

1 میں درستگی اور جواب دینے کی صلاحیت بہتر کی گئی ہے، اور مسک نے صارفین سے مدد مانگی ہے کہ وہ ایسے مثالیں فراہم کریں جہاں AI نے غیر حقیقی یا حد سے زیادہ مثبت ردعمل دیا ہو، تاکہ بوٹ کو بہتر بنایا جا سکے۔

مزید پڑھیں: ایلون مسک آئندہ دہائی تک ٹیسلا کے سربراہ ہوں گے، کتنا معاوضہ ملے گا؟

حالیہ دنوں میں Grok نے مسک کی تعریف میں مبالغہ آمیز جوابات دیے، جن میں اسے Lebron James سے زیادہ فِٹ اور Mike Tyson کو شکست دینے والا کہا گیا، جس پر مسک نے فوری اصلاحات کا اعلان کیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایکس صارفین ایلون مسک گروک اپڈیٹ

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایکس صارفین ایلون مسک ایلون مسک

پڑھیں:

جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی

تہران:

ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔

 

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔

مزید پڑھیں

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔

ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ