پی آئی اے کے نصف طیارے بند، پھر بھی اربوں کا منافع؛ نجکاری دسمبر کے آخر میں متوقع
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
لاہور:
پی آئی اے کے نصف طیارے بند ہونے کے باوجود قومی ایئرلائن اربوں روپے کا منافع کما رہی ہے جب کہ کمپنی کی نجکاری دسمبر کے آخر میں متوقع ہے۔
قومی ایئرلائن پی آئی اے کی نجکاری کا معاملہ ایک بار پھر لٹک گیا ہے اور اب دسمبر کے پہلے ہفتے کے بجائے یہ عمل آخری ہفتے میں متوقع ہے۔ دوسری جانب پی آئی اے نے 14 سے 16 جہازوں کے ساتھ اندرون و بیرون ممالک فضائی آپریشن کے ذریعے رواں مالی سال کے 6 ماہ میں 11 ارب 50 کروڑ روپے سے زائد کا قبل از ٹیکس منافع حاصل کیا ہے۔
پی آئی اے ذرائع کے مطابق قومی ایئرلائن نے کم تعداد میں جہازوں کے باوجود کینیڈا، برطانیہ، فرانس، سعودی عرب، امارات سمیت دیگر ممالک کے لیے فضائی آپریشن جاری رکھا ہوا ہے۔
گزشتہ برس پی آئی اے نے 26 ارب 20 کروڑ روپے منافع کمایا تھا جب کہ اس سال اب تک 11 ارب 50 کروڑ روپے سے زائد کا منافع حاصل کیا جا چکا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر پی آئی اے کے جہازوں کی کمی پوری کر دی جائے تو گزشتہ برس کی نسبت 2 سے 3 ارب روپے مزید منافع حاصل کیا جا سکتا ہے۔
پی آئی اے کے پاس مجموعی طور پر 32 جہاز موجود ہیں جن میں سے 16 جہاز انجن اور دیگر اسپیئر پارٹس کی خرابی کے باعث آپریشن میں شامل نہیں۔ ذرائع کے مطابق اگر یہ جہاز بروقت فضائی بیڑے میں شامل کر لیے جائیں تو پی آئی اے کی نجکاری کی ضرورت ہی باقی نہیں رہے گی۔
دوسری جانب نجکاری کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری آئندہ ماہ کے آخر میں متوقع ہے جو پہلے دسمبر کے اوائل میں ہونا تھی۔ نجکاری میں حصہ لینے والی کمپنیوں میں فوجی فرٹیلائزر، حبیب رفیق، یونس برادرز اور ایئر بلیو شامل ہیں۔ دسمبر میں ہونے والی بڈنگ میں یہ دیکھا جائے گا کہ پی آئی اے کو کونسی کمپنی خریدتی ہے۔
پی آئی اے ذرائع کے مطابق جو بھی کمپنی پی آئی اے کو خریدے گی اسے 300 سے 400 ارب روپے تک کی اضافی سرمایہ کاری کرنا ہوگی، جو ایک بڑا چیلنج ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ پی آئی اے کی نجکاری میں اندرون و بیرون ممالک موجود اربوں روپے مالیت کی پراپرٹیز شامل نہیں، یہ پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کے نام منتقل کر دی گئی ہیں۔ نجکاری میں صرف اسلام آباد، کراچی، پشاور اور راولپنڈی کے 4 مین دفاتر شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پی آئی اے کی نجکاری پی آئی اے کے میں متوقع دسمبر کے
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔