پی آئی اے نجکاری کیلیے بولی دسمبر میں مکمل ہوجائیگی، نجکاری کمیشن
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251127-01-2
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)نجکاری کمیشن نے کہا ہے کہ دسمبر کے وسط تک پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی بڈنگ مکمل کر دی جائے گی، جس کیلیے پی آئی اے کی ریزرو پرائس کی منظوری وفاقی کابینہ سے لی جائے گی۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کا اجلاس کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر فاروق ستار کی زیر صدارت ہوا، جہاں سیکرٹری نجکاری کمیشن کی جانب سے بتایا گیا کہ 4 بڈرز کے ساتھ کمرشل ٹرمز طے کیے جا رہے ہیں، شیئر پرچیز ایگریمنٹ اور شیئر ہولڈنگ ایگریمنٹ سے متعلق بات چیت کی جا رہی ہے، پری بڈ کوالیفکیشن پر 3 روز سے مذاکرات کیے جا رہے ہیں۔ قائمہ کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ پی آئی اے کے ملازمین اور پینشنرز کا خیال رکھا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پی ا ئی اے
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔