وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی خالد مگسی نے وزارت کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کردیا۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا اجلاس جام عبدالکریم کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔

اس موقع پر وفاقی وزیر نے وزارت کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ وزارت کو ایسے پیش کیا جاتا ہے جیسے یہ’تھکی ہوئی‘ وزارت ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ اکثر اس کی سربراہی بھی ایسے وزیر کو دے دی جاتی ہے جو مؤثر انداز میں کام نہیں کر پاتا، وزارت کے ذیلی اداروں کو آج تک درست سمت نہیں ملی۔

اجلاس میں پاکستان جنرل کاسمیٹکس بل 23025ء سمیت مختلف امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔

شرکاء کو سیکریٹری سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے بریفنگ دی اور بتایا کہ پاکستان جنرل کاسمیٹکس بل قانون کی صورت میں باوجود منظوری کے عملی طور پر نافذ نہیں ہو سکا۔

ان کے مطابق وفاقی کابینہ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس بل کو واپس لیا جائے، بل رکن قومی اسمبلی آغا رفیع اللہ کی جانب سے پیش کیا گیا تھا۔

آغا رفیع اللہ نے اجلاس میں شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ’ فراڈ پاکستانی قوم اور قومی اسمبلی کے ساتھ ہوا ہے‘ کیونکہ ملک میں دستیاب متعدد کریمیں اور کاسمیٹکس میں زہریلے مادے شامل ہوتے ہیں جو انسانی جلد کے لیے مضر صحت ہیں۔

سیکرٹری کے مطابق پاکستان میں دو طرح کے کاسمیٹکس استعمال ہوتے ہیں،ایک درآمد شدہ اور دوسرے مقامی طور پر تیار کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ بل واپس لینے کے باوجود کاسمیٹکس کا کاروبار تو جاری رہے گا، تاہم ضروری ہے کہ مارکیٹ میں ایسا قابلِ اعتماد اور محفوظ پروڈکٹ دستیاب ہو جو جلد کے لیے مفید ہو۔

اجلاس میں سیمی کنڈکٹرز اور چپس سے متعلق بریفنگ پر بات ہوئی، رکن کمیٹی عمار لغاری نے وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی سے کہا کہ سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی کے شعبے پر تفصیلی بریفنگ آئندہ اجلاس میں فراہم کی جائے۔

کمیٹی نے متعلقہ حکام کو اگلے اجلاس میں مکمل رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

وفاقی وزیر خالد مگسی کے مطابق وزارت کے ذیلی اداروں کو آج تک درست سمت نہیں ملی، سوائے پی ایس کیو سی اے کے جو فعال طور پر کام کر رہا ہے اور محکمے کو آمدنی بھی فراہم کر رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: وفاقی وزیر اجلاس میں کا اظہار کہا کہ

پڑھیں:

برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف

وزیرِ اعظم شہباز شریف—فائل فوٹو

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ صنعتی مصنوعات کی پیداوار میں اضافے سے برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات ترجیح ہیں۔

وزیرِاعظم کی زیرِ صدارت سرمایہ کاری میں اضافے، شعبہ جاتی اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر جائزہ اجلاس ہوا جس میں متعلقہ وزارتوں کی جانب سے مختلف زیرِغور پالیسی تجاویز پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں وفاقی وزراء اسحاق ڈار، محمد اورنگزیب، احد چیمہ، عطاء تارڑ شریک ہوئے۔

پاکستان اے آئی میں عالمی سطح پر قدم رکھنے کیلئے تیار ہے: شہباز شریف

نوجوانوں کو جدید علم اور مہارتوں سے آراستہ کرنا وقت کی ضرورت ہے، اے آئی کے فوائد اور چیلنجز دونوں ہیں: شہباز شریف

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے صنعت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ توانائی کی ضروریات متبادل توانائی ذرائع سے پوری کرنے کے لیے بھر پور کام ہو رہا ہے۔

وزیرِ اعظم کا مزید کہنا ہے کہ توانائی بچانے اور سستی ٹرانسپورٹ کے لیے الیکٹرک وہیکلز پالیسی ضروری ہے۔

وزیرِاعظم شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اور بہترین کارکردگی اولین ترجیح ہے۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان