خیبرپختونخوا: سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 7 دہشت گرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور: سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا میں مختلف کارروائیوں کے دوران بھارتی پراکسی تنظیم فتنہ الخوارج کے سات عناصر ہلاک کر دیے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا میں مختلف کارروائیوں کے دوران بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشت گرد عناصر، فتنہ الخوارج کے سات خارجی ہلاک کر دیے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ کارروائیاں 18 اور 19 نومبر کو خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر انجام دی گئیں۔ ضلع مہمند میں خوارج کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا گیا، جس میں شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد چار دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ لکی مروت میں دوسری کارروائی میں دو عناصر مارے گئے جبکہ ضلع ٹانک میں تیسرے مقابلے میں ایک خارجی کو ہلاک کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ علاقے میں مزید بھارتی سرپرستی یافتہ خوارج کی تلاش کے لیے سینیٹائزیشن کے عمل کو جاری رکھا گیا ہے۔
پاک فوج نے واضح کیا ہے کہ امن دشمن عناصر کے خاتمے کے لیے “عزمِ استحکام” کے تحت کارروائیاں مسلسل جاری رہیں گی اور سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سیکیورٹی فورسز
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔