امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے غزہ میں انسانی امداد کی فوری رسائی کا مطالبہ کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے غزہ میں انسانی بحران کی بگڑتی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ سے کہا ہے کہ وہ اپنی سفارتی طاقت استعمال کرتے ہوئے اسرائیل پر دباؤ ڈالے تاکہ موسمِ سرما کی سختیوں کے دوران غزہ میں انسانی امداد کی مکمل رسائی یقینی بنائی جا سکے۔
سینڈرز نے بیان میں کہا کہ ایک ملین سے زائد فلسطینی سرد موسم میں بغیر پناہ گاہ کے رہنے پر مجبور ہیں، جبکہ 92 فیصد گھر اسرائیلی بمباری سے تباہ ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خیموں اور دیگر امدادی سامان کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔
غزہ حکام کے مطابق تقریباً 15 لاکھ فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں اور سردی میں شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ادویات، خوراک اور بنیادی خدمات نہ ہونے کے برابر ہیں، جبکہ تباہ شدہ علاقوں میں کم از کم 3 لاکھ خیموں اور پری فیبریکیٹڈ یونٹس کی فوری ضرورت ہے تاکہ بے گھر افراد کو پناہ دی جا سکے۔
رپورٹس کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی حملوں میں تقریباً 70 ہزار فلسطینی شہید اور 1 لاکھ 71 ہزار زخمی ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔
سینیٹر سینڈرز نے خبردار کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو غزہ میں انسانی تباہی ناقابل تصور سطح تک پہنچ سکتی ہے اور واشنگٹن کو اسرائیل سے فوری طور پر غزہ کے لیے مکمل انسانی امداد کے راستے کھولنے کا مطالبہ کرنا چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو اپنی موجودگی اور آپریشنز بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ بیوفورٹ قلعے پر قبضہ ایک “ڈرامائی قدم” اور اسرائیلی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ، مصر اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔ اور سرحدوں سے باہر سیکیورٹی زونز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ لبنان میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ماضی میں حزب اللہ کا اثر و رسوخ رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک حزب اللہ کے 8 ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک متعدد اسرائیلی ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں حالیہ ڈرون حملے میں مارا گیا ایک فوجی بھی شامل ہے۔