کافی کا استعمال عمر بڑھانے میں معاون ہو سکتا ہے: تحقیق
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایک حالیہ سائنسی تحقیق میں دلچسپ انکشاف کیا گیا ہے کہ کافی کے معتدل استعمال سے انسانی زندگی پر مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ بلیک کافی یا کم چینی اور سیر شدہ چکنائی کے ساتھ کافی قبل از وقت موت کے خطرات کو کم کر سکتی ہے۔ جب لوگ زیادہ چینی یا کریم کے ساتھ کافی پیتے ہیں تو اس کے صحت کے فوائد ختم ہوجاتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق جو لوگ روزانہ کافی پیتے ہیں، وہ غیر پینے والوں کے مقابلے میں تقریباً پانچ سال طویل زندگی گزار سکتے ہیں، مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ دن میں چار کپ تک کافی پینا ٹیلو میئرز کی لمبائی بڑھانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ ٹیلو میئرز کروموسومز کے سرے محفوظ رکھنے والے ایسے ساختی اجزاء ہیں جو خلیوں کی تقسیم اور عمومی عمر کے تعین میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
خلیاتی سطح پر ٹیلو میئرز کی کمی اکثر عمر سے متعلقہ بیماریوں جیسے دل کی بیماری، ذیابیطس اور کچھ کینسر کی علامات کے ساتھ جوڑی جاتی ہے، جبکہ ان کی لمبائی بڑھنے کو خلیاتی جوانی کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے۔
تحقیق میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ چار کپ روزانہ (جو تقریباً 400 ملی گرام کیفین کے برابر ہے) سے زیادہ کافی پینے کا کوئی اضافی فائدہ نہیں ہوتا، یعنی اعتدال ہی صحت کے لیے مؤثر ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کافی میں موجود طاقتور اینٹی آکسیڈنٹس اور سوزش کم کرنے والے مرکبات ہی ٹیلو میئرز کی لمبائی بڑھانے اور حیاتیاتی عمر کے بڑھنے کی رفتار کو سست کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں، جبکہ کیفین بذاتِ خود اس عمل میں اہم نہیں۔
یہ تحقیق کافی کے صحت پر مثبت اثرات کے حوالے سے مزید شواہد فراہم کرتی ہے اور اعتدال میں کافی پینے کو عمر طویل کرنے اور خلیاتی صحت بہتر بنانے کے لیے مفید قرار دیتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔