data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بچوں کے اسکرین ٹائم سے متعلق دنیا بھر میں پایا جانے والا عمومی خدشہ ایک نئی سائنسی تحقیق کے بعد کم تشویشناک تصور کیا جانے لگا ہے۔

برسوں سے والدین، ماہرین اور تعلیمی حلقے یہ سمجھتے رہے ہیں کہ موبائل، ٹیبلیٹ یا کمپیوٹر پر وقت گزارنا بچوں کی صحت اور طرزِ زندگی کو نقصان پہنچاتا ہے، مگر آسٹریلیا میں کی گئی ایک وسیع تحقیق نے اب اس خیال کو چیلنج کر دیا ہے۔

اس جامع مطالعے نے نہ صرف اسکرین ٹائم کے بارے میں غلط فہمیاں دور کرنے میں مدد دی ہے بلکہ یہ بھی واضح کیا ہے کہ کچھ ڈیجیٹل سرگرمیاں بچوں کی جسمانی اور غذائی صحت کو بہتر بنانے میں معنی خیز کردار ادا کر رہی ہیں۔

یونیورسٹی آف ساؤتھ آسٹریلیا کے محققین نے 18 سال سے کم عمر ایک لاکھ 33 ہزار سے زائد بچوں اور نوجوانوں کا ڈیٹا جمع کرکے اس بات کا جائزہ لیا کہ مختلف ڈیجیٹل ٹولز بچوں کی روزمرہ صحت، سرگرمیوں، خوراک اور طرزِ زندگی پر کیا اثرات چھوڑتے ہیں۔

اس تحقیق میں ان بچوں کا ڈیٹا بھی شامل تھا جو ہیلتھ ایپس، فٹنس ٹریکرز، آن لائن ایکسرسائز پروگرامز اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز باقاعدگی سے استعمال کرتے ہیں۔

نتائج نے ماہرین کو حیران بھی کیا اور والدین کے لیے ایک نئے زاویے سے سوچنے کا موقع بھی فراہم کیا۔ تحقیق کے مطابق وہ بچے جنہوں نے صحت سے متعلق ڈیجیٹل ایپس اور فٹنس ٹولز استعمال کیے، روزانہ اوسطاً 10 سے 20 منٹ زیادہ جسمانی سرگرمی کرنے کے عادی پائے گئے۔ یعنی اسکرین کے استعمال نے ان کے جسمانی متحرک ہونے میں کمی لانے کے بجائے ایک مثبت رجحان پیدا کیا۔

کئی کیسز میں یہ بھی دیکھا گیا کہ بچوں کے بیٹھے رہنے کے مجموعی دورانیے میں روزانہ 20 سے 25 منٹ کی کمی واقع ہوئی، جو ان کی مجموعی صحت کے لیے ایک خوش آئند علامت ہے۔

تحقیق میں یہ اہم نکتہ بھی سامنے آیا کہ ڈیجیٹل ٹولز استعمال کرنے والے بچوں کی غذائی عادات میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔ ان بچوں نے پھلوں، سبزیوں اور کم چکنائی والی غذاؤں کا استعمال بڑھایا، جو عمومی طور پر صحت مند خوراک کے طور پر جانا جاتا ہے۔

اگرچہ وزن میں بڑی تبدیلیاں دیکھنے میں نہیں آئیں، لیکن جسم میں چربی کی مقدار اور بی ایم آئی میں وقت کے ساتھ بہتر رجحان سامنے آیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈیجیٹل ٹولز صحت مند طرزِ زندگی کی تحریک دینے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔

تحقیق میں نیند سے متعلق بھی مشاہدات جمع کیے گئے، تاہم یہاں کوئی خاص تبدیلی سامنے نہیں آئی۔ یعنی اسکرین ٹائم میں اضافے یا ڈیجیٹل ٹولز کے استعمال کا بچوں کی نیند پر کوئی نمایاں مثبت یا منفی اثر ظاہر نہیں ہوا۔ اس پہلو پر مزید تحقیق کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔

یہ نتائج اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اسکرین ٹائم کے بارے میں یکسر منفی سوچ اپنانے کے بجائے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے مثبت استعمال کو فروغ دینا زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔

دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجی کے دور میں ضروری ہے کہ بچوں کو ایسی سرگرمیوں کی طرف راغب کیا جائے جو صحت مند اور فائدہ مند ہوں، نہ کہ محض اسکرین کے استعمال کو نقصان دہ قرار دے کر نظر انداز کر دیا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسکرین ٹائم بچوں کی

پڑھیں:

 کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر

اسلام آباد،اوورسیز چیمبر آف کامرس سروے (overseas chamer commerce)میں بتایا گیا کہ پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور ہوگیا، 70 سے 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر ہوئے۔

سروے میں بتایا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9 فیصد پوائنٹس کمی سے مثبت 13 فیصد رہ گیا، خدمات کے شعبے میں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔

اوورسیز چیمبر سروے کے مطابق مینوفیکچرنگ کے شعبے میں کاروباری اعتماد 7 پوائنٹس کم ہوگیا، صرف ریٹیل سیکٹر میں کاروباری اعتماد 3 پوائنٹس اضافے سے مثبت 20 فیصد ہوگیا۔

مزید پڑھیں:سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع

سروے میں یہ بھی بتایا گیا کہ نئی سرمایہ کاری انڈیکس 10 پوائنٹس کمی سے صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا۔

متعلقہ مضامین

  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟