یورپی پارلیمنٹ نے سوشل میڈیا استعمال کرنے کے لئےکم از کم عمر 16 سال مقررکردی
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
برسلز: یورپی پارلیمنٹ نے سوشل میڈیا استعمال کرنے کیلئے کم ازکم عمر 16 سال مقرر کرنے کی قرارداد منظور کرلی۔
میڈیاذرائع کے مطابق منظور ہونے والی قراردار میں کہا گیا کہ 16 سےکم عمر افراد کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک رسائی کی اجازت نہ ہو۔
قرارداد میں کہا گیا کہ 16 سے کم عمرافراد والدین یا سرپرست کی اجازت سے سوشل میڈیا استعمال کریں۔
خبر رساں ایجنسی کے مطابق قرارداد میں آن لائن سرگرمیوں کیلئے عمر کی حد 16 سال مقرر کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ یورپی پارلیمنٹ کی قرارداد قانونی طور پرپابند نہیں یا کوئی پالیسی وضع نہیں کرتی۔
خیال رہےکہ دنیا بھر میں کم عمر صارفین کی ذہنی صحت پر سوشل میڈیا کے منفی اثرات کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔
گزشتہ دنوں ملائیشیا نے 16 سال سےکم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا کے استعمال پرپابندی کا فیصلہ کیا تھا جبکہ رواں ماہ ہی ڈنمارک نے 15 سال سےکم عمر بچوں پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال پر پابندی عائد کرنےکا فیصلہ کیا۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال آسٹریلیا میں بھی 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا بل منظور کیا گیا تھا، اس حوالے سے امریکا میں سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف مقدمات بھی دائر کیے جا چکے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا استعمال
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔