یورپی پارلیمنٹ کی سوشل میڈیا کے استعمال کیلیے کم از کم عمر 16 سال تجویز
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
برسلز: یورپی یونین کی پارلیمنٹ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے استعمال کے لیے کم از کم عمر کی حد کے حوالے سے قرار داد منظور کر لی ہے، جس کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کم از کم عمر 16 سال تجویز کی گئی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یورپی پارلیمنٹ میں قرار داد میں کہا گیا ہے کہ 16 سال سے کم عمر بچے صرف والدین یا سرپرست کی اجازت کے ساتھ ہی سوشل میڈیا استعمال کر سکیں گے۔ تاہم، یورپی سطح پر ہر ملک کو یہ صوابدید حاصل ہوگی کہ وہ کم از کم عمر کی حد کو 13 سال تک مقرر کر سکے۔
اراکین پارلیمنٹ نے کہاکہ یہ قرار داد قانونی طور پر پابند نہیں ہے اور نہ ہی یہ کسی ملک میں براہِ راست پالیسی کا درجہ رکھتی ہے مگر اسے مستقبل کی قانون سازی اور یورپی یونین کے رکن ممالک میں بچوں کے ڈیجیٹل تحفظ کے لیے ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
دنیا کے دیگر ممالک میں بھی بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کے حوالے سے عمر کی حد مقرر کی جا چکی ہے۔ آسٹریلیا، فرانس، ڈنمارک اور ملائیشیا جیسے ممالک میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لیے عمر کی کم از کم حد 15 سے 16 سال رکھی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد بچوں کو اشتہا انگیز مواد، جنسی جرائم، خطرناک کنٹینٹ اور سائبر کرائم سے محفوظ رکھنا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا عمر کی
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔