عمران خان پاکستانی تاریخ کے سب سے وی آئی پی قیدی ہیں، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہےکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان پاکستانی تاریخ کے سب سے وی آئی پی قیدی ہیں۔پی ٹی آئی نے عمران خان سے ملاقات نہ کرانے کا معاملہ سینیٹ میں اٹھادیا۔ پی ٹی آئی کے سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ بتایا جائے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کب کرائی جائےگی؟
جواب میں وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی پاکستان کی تاریخ کے سب سے وی آئی پی قیدی ہیں ، بانی پی ٹی آئی کے پاس 6 بڑی بیرکس ہیں ، ملک میں کسی قیدی کے پاس باورچی اور ایکسرسائز مشینیں نہیں ہیں۔طلال چوہدری نےکہا کہ سیاسی ڈرامہ لگانےکے لیے جیل رکھی ہوئی ہے ، یہ ڈرامہ لگانے کے لیے جیل کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں، ضمنی انتخاب ہار گئے ، پرفارمنس کچھ نہيں ہے۔
لاہور میں ڈاکو بے لگام،فیکٹری ملازمین کو رسیوں سے باندھ کر ایک کروڑ روپے مالیت کا سامان لوٹ کر فرار
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: طلال چوہدری بانی پی ٹی
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔