ضمنی انتخابات میں کامیاب امیدواروں کا نوٹیفیکیشن جاری، طلال چوہدری کے بھائی کا نوٹیفکیشن روک دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
الیکشن کمیشن نے ضمنی انتخابات میں کامیاب ہونے والے امیدواروں کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کی 5 اور پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے 7 کامیاب امیدواروں کو نوٹیفائی کردیا۔ طلال چوہدری کے بھائی بلال چوہدری کی کامیابی کا نوٹیفکیشن روک دیا گیا۔
مزید پڑھیں:انتخابی عملے کو دھمکانے کا کیس، وزیراعلیٰ خیبر کی الیکشن کمیشن میں پیشی
الیکشن کمیشن نے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں قومی اسمبلی و صوبائی اسمبلی کی 13 نشستوں پر ضمنی انتخابات کے بعد 12 نشستوں پر کامیاب امیدواروں کا نوٹیفکیشن جاری کردیا جبکہ فیصل آباد سے طلال چوہدری کے بھائی کی کامیابی کا نوٹیفکیشن انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر تا حکِم ثانی روک دیا گیا۔
الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کی 6 میں سے 5 نشستوں کے کامیاب امیدواروں کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔ ہری پور سے مسلم لیگ ن کے بابر بواز کو کامیاب قرار دیا گیا۔ این اے 104 فیصل آباد سے دانیال احمد، این اے 129 لاہور سے محمد نعمان جبکہ این اے 143 ساہیوال اور این اے 185 ڈیرہ غازی خان سے بالترتیب محمد طفیل اور محمود قادر کو کامیاب قرار دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی؛ الیکشن کمیشن نے طلال چوہدری کو طلب کرلیا
پنجاب اسمبلی کی 7 نشستوں پر ضمنی انتخابات میں کامیاب امیدواروں کو بھی نوٹیفائی کردیا گیا ہے۔ پی پی 73 سرگودھا سے سلطان علی رانجھا، پی پی 87 میانوالی سے علی حیدر خان نیازی، پی پی 98 فیصل آباد سے اعزاز علی تبسم، پی پی 115 فیصل آباد سے طاہر پرویز، پی پی 116 فیصل آباد سے احمد شہریار، پی پی 203 ساہیوال سے محمد حنیف اور پی پی 269 مظفرگڑھ سے میاں علمدار عباس قریشی کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الیکشن کمیشن ضمنی انتخابات طلال چوہدری نوٹیفکیشن جاری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: الیکشن کمیشن ضمنی انتخابات طلال چوہدری نوٹیفکیشن جاری کا نوٹیفکیشن جاری کامیاب امیدواروں الیکشن کمیشن نے ضمنی انتخابات طلال چوہدری اسمبلی کی دیا گیا
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔