الیکشن کمیشن آف پاکستان نے قومی اور صوبائی اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں کامیاب امیدواروں کے نوٹیفکیشن جاری کر دیے ہیں۔
قومی اسمبلی کے پانچ اور پنجاب اسمبلی کے سات حلقوں سے کامیاب امیدواروں کے نوٹیفکیشن جاری کیے گئے۔ تاہم این اے 96 فیصل آباد سے بلال چوہدری کا نوٹیفکیشن ابھی جاری نہیں کیا گیا، کیونکہ الیکشن کمیشن نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے کیس کی وجہ سے انہیں روکا ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کے دیگر کامیاب امیدوار یہ ہیں:
این اے 18 ہری پور: بابر نواز خان
این اے 104 فیصل آباد: دانیال احمد
این اے 129 لاہور: محمد نعمان
این اے 143 ساہیوال: محمد طفیل
این اے 185 ڈیرہ غازی خان: محمود قادر خان
صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں کامیاب امیدواروں میں شامل ہیں:
پی پی 73 سرگودھا: میاں سلطان علی رانجھا
پی پی 87 میانوالی: علی حیدر نور خان نیازی
پی پی 98 فیصل آباد: اعزاز علی تبسم
پی پی 115 فیصل آباد: محمد طاہر پرویز
پی پی 116 فیصل آباد: احمد شہریار
پی پی 203 ساہیوال: محمد حنیف
پی پی 269 مظفرگڑھ: میاں عالمدار عباس قریشی
الیکشن کمیشن نے ہدایت کی ہے کہ یہ نوٹیفکیشن گزیٹ آف پاکستان میں بھی شائع کیا جائے تاکہ عوامی ریکارڈ میں شامل ہو جائے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کامیاب امیدواروں فیصل ا باد اسمبلی کے

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع