ضمنی انتخابات میں کامیاب امیدواروں کا نوٹیفکیشن جاری
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
—فائل فوٹو
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے قومی اسمبلی کی 5 اور صوبائی اسمبلی کی7 نشستوں پر ہوئے ضمنی انتخابات میں کامیاب امیدواروں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔
الیکشن کمیشن نے این اے 18 ہری پور سے بابر نواز خان، این اے 104 فیصل آباد سے دانیال احمد اور این اے 129 لاہور سے محمد نعمان کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔
این اے 143 سے محمد طفیل، این اے 185 سے محمود قادر خان کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔
الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر این اے 96 فیصل آباد کا نوٹیفکیشن روک رکھا ہے، جہاں سے طلال چوہدری کے بھائی بلال بدر کامیاب ہوئے ہیں تاہم نوٹیفکیشن نہیں ہوا۔
الیکشن کمیشن نے پی پی 73 سرگودھا سے میاں سلطان علی رانجھا، پی پی 87 میانوالی سے علی حیدر نور اور پی پی 98 فیصل آباد سے آزاد علی تبسم کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔
یہ بھی پڑھیے ضمنی انتخابات: کس حلقے میں کتنا ووٹر ٹرن آؤٹ رہا؟ الیکشن کمیشن نے بتا دیا ضمنی انتخابات ن لیگ فاتح ، قومی کی 5، صوبائی کی 6نشستوں پر کامیاب، سادہ اکثریت کے لیے قومی اسمبلی میں ن لیگ کا PP پر انحصار ختمپی پی 115 سے محمد طاہر پرویز، پی پی 203 ساہیوال سے محمد حنیف، پی پی 116 فیصل آباد سے احمد شہریار اور پی پی 269 مظفر گڑھ سے میاں علمدار عباس قریشی کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔
اس قبل الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کی 6 اور صوبائی اسمبلی کی7 نشستوں پر ہوئے ضمنی انتخابات کے ووٹر ٹرن آؤٹ کے بارے میں بتایا تھا۔
الیکشن کمیشن کے مطابق ضمنی انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ مجموعی طور پر 28.
این اے 185 پر ووٹر ٹرن آؤٹ 32.61 فیصد، این اے 96 فیصل آباد میں 26.46 فیصد، این اے 143 ساہیوال میں 21.43 فیصد رہا۔
الیکشن کمیشن کے مطابق این اے 129 لاہور میں ووٹر ٹرن آؤٹ 18.67 فیصد، این اے 104 فیصل آباد میں 13.23 فیصد،پی پی 269 مظفر گڑھ میں 50.82 فیصد، پی پی 98 فیصل آباد میں 36.82 فیصد رہا۔
پی پی 73 سرگودھا میں ووٹر ٹرن آؤٹ 34.45 فیصد، پی پی 87 میانوالی میں 27 فیصد، پی پی 116 فیصل آباد میں 22.94 فیصد اور پی پی 203 ساہیوال میں 22.4 فیصد رہا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا میں ووٹر ٹرن ا و ٹ الیکشن کمیشن نے فیصل ا باد میں ضمنی انتخابات اسمبلی کی فیصل آباد فیصد رہا
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کو متنازع بنانے کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے اور انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنا ووٹ آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور کسی قسم کی مداخلت یا دباؤ جمہوری اقدار کے منافی ہوگا۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام کا راستہ صرف آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات سے ہو کر گزرتا ہے، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی روایت نے ماضی میں پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے دوچار کیا، اس لیے ضروری ہے کہ عوام کے فیصلے کا مکمل احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات میں عوام نے اپنا واضح فیصلہ دیا تھا، تاہم عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔
حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے مساوی اور آئینی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو ہر قسم کے دباؤ، جانبداری اور غیر ضروری مداخلت سے پاک رکھا جائے تاکہ عوام اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہیں اور وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کریں گے، عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے انتخابات میں عوامی حمایت کے ساتھ بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی خوشحالی ممکن نہیں، لہذا تمام متعلقہ حکام اس امر کو یقینی بنائیں کہ انتخابات مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ ہوں اور عوام کے مینڈیٹ کا ہر صورت احترام کیا جائے۔