ہری پور کے ضمنی الیکشن میں کامیابی پر حیرانی ہوئی: رانا ثناء اللّٰہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
—فائل فوٹو
وزیرِ اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللّٰہ کا کہنا ہے کہ ہری پور کے ضمنی الیکشن میں کامیابی پر خوشی بھی ہوئی اور حیرانی بھی۔ وزیراعلیٰ کے پی ہری پور میں مہم چلا رہے تھے اور دھمکیاں بھی دے رہے تھے۔
جیو نیوز کے پروگرام جیو پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2017 میں مہنگائی 3 فیصد تھی جو 4 سال میں 40 فیصد پر گئی، بانی پی ٹی آئی پروجیکٹ کے لانچ کے بعد ملک میں تباہی آئی۔
رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ آئی ایم ایف کا پروگرام مکمل ہو گا تو عوام کو ریلیف دے سکیں گے، ہم لوگوں کو ریلیف دینا چاہتے ہیں لیکن آئی ایم ایف شرائط کی وجہ سے نہیں دے پا رہے۔
وزیرِ اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور اور مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما رانا ثناء اللّٰہ نے کہا ہے کہ اگلے الیکشن تک میرے خیال سے پی ٹی آئی نام کی کوئی جماعت نہ ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک کی تباہی کرنے والوں سے جواب طلبی میں وقت ضائع کیا جائے یا بہتری کے لیے کام کیا جائے، ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا جائے، حالات بہتر، لوگوں کو ریلیف دیا جائے یا پھر اسی دائرے میں گھوما جائے۔
انہوں نے کہا کہ جھوٹے مقدمات، گالم گلوچ، نفرت جیسے معاملات کا نتیجہ بہتر نہیں نکلتا، ہماری اولین ترجیح ہے کہ ملک آگے بڑھے، ترقی کرے اور لوگوں کے لیے آسانی ہو، جن لوگوں نے ماضی میں ملک کو نقصان پہنچایا ان کے حساب کا وقت آسکتا ہے۔
مسلم لیگ ن کے رہنما کا کہنا تھا کہ ملک کی بہتری کے لیے کام ہونا چاہیے، ان لوگوں کا حساب بعد میں بھی ہوسکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: رانا ثناء الل نے کہا
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔