ہنگو میں چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کا حملہ، 3 پولیس اہلکار شہید
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
خیبرپختونخوا کے ضلع ہنگو میں دہشت گردوں نے پولیس چیک پوسٹ پر حملہ کیا جس میں تین پولیس اہلکار شہید ہوگئے۔
ضلعی پولیس آفیسر (ڈی پی او) خان زیب خان کے مطابق تھانہ سٹی کے علاقے قاضی تالاب میں واقع چیک پوسٹ پر دہشت گردوںنے حملہ کیا جس میں پولیس کے تین جوان شہید ہوگئے۔
ڈی پی او نے بتایا کہ چیک پوسٹ پر تعینات اہلکاروں نے دہشت گردوں کا جواں مردی سے مقابلہ کیا، جس سے دہشت گردوں کو بھی نقصان پہنچا ہے تاہم اس حوالے سے ابھی کچھ بھی بتانا قبل از وقت ہوگا۔
شہید اہلکاروں کی میتوں کوڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کردیا گیا جبکہ پولیس اور فورسز کی بھاری نفری نے جائے وقوعہ پہنچ کر علاقے کو سیل کیا اور آپریشن شروع کردیا۔
اُدھر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے ضلع ہنگو میں پولیس چیک پوسٹ پر دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے جائے وقوعہ پر فوری اضافی نفری بھیجنے کی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں، بزدلانہ حملے ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے، شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور دہشت گردوں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے آئی جی پولیس سے واقعے کی فوری رپورٹ طلب کی اور زخمیوں کو فوری اور بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ مزید مضبوط عزم کے ساتھ جاری رہے گی۔ وزیراعلیٰ نے شہداء کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا۔
معاون خصوصی اطلاعات شفیع جان نے ہنگو میں پولیس چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کی فائرنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے پولیس اہکاروں کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گرد اس طرح کی بزدلانہ کارروائیوں سے ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے، خیبر پختونخوا پولیس فورس دہشتگردی کے خلاف فرنٹ لائن پر ہے، شہید پولیس اہلکاروں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔
شفیع جان نے کہا کہ صوبائی حکومت دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے، خیبر پختونخوا حکومت مشکل گھڑی میں شہداء کے لواحقین کے ساتھ کھڑی ہے، پوری قوم پولیس شہداء کی لازوال قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔
اُدھر خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ کی تحصیل خار کے علاقے جنت شاہ میں بارودی مواد پھٹنے سے 2 افراد جاں بحق جبکہ ایک زخمی ہو گیا۔
ڈی پی او باجوڑ وقاص رفیق اور ریسکیو 1122 نے واقعے کی تصدیق کردی۔ ڈی پی او کے مطابق دو لاشیں اور ایک شدید زخمی کو خار اسپتال منتقل کردیا گیا پولیس عوام کو ہدایت کی ہے کہ پولیس اور بم ڈسپوزل اسکواڈ روزانہ کی بنیاد پر گولے اور بم ڈفیوز کر رہے ہیں کیونکہ اجکل حالات ہی ایسے ہیں عوام احتیاط تدابیر اختیار کرتے ہوئے خود کو اور اپنے بچوں کو محفوظ رکھیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چیک پوسٹ پر دہشت نے کہا کہ ہنگو میں ڈی پی او پولیس ا
پڑھیں:
فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
سماجی رابطے کے پلیٹ فارمز ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور فیس بک پر متعدد افراد اور سرگرم بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹس 30 مئی 2026 سے ایک ویڈیو شیئر کر رہے ہیں اور دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس میں آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل (کاؤنٹر انٹیلیجنس) میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
تاہم، حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے جس میں ایک بھارتی شہری تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں پٹ رہا ہے۔
یہ دعویٰ کیسے پھیلا؟
30 مئی کو ایک ایسا ایکس اکاؤنٹ (جو اپنی سابقہ پوسٹس کی بنیاد پر ریاست مخالف معلوم ہوتا ہے) نے ایک ویڈیو شیئر کی اور دعویٰ کیا کہ اس میں ایک پاکستانی فوجی افسر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے گروہ نے تشدد کا نشانہ بنایا۔
پوسٹ کے کیپشن میں لکھا تھا:
’ایک پاکستانی آرمی کرنل کو تھائی لیڈی بوائز نے اس وقت بری طرح مارا پیٹا جب وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ سیاحت پر آیا تھا اور مقامی علاقے کی ایک کم عمر لڑکی سے ملاقات کا بندوبست کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔‘
اس پوسٹ کو42 ہزار 900 مرتبہ دیکھا گیا۔
اسی طرح 31 مئی کو ایک بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا:
’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے اس لیے مارا پیٹا کیونکہ انہوں نے طے شدہ رقم ادا نہیں کی۔‘
اس پوسٹ کو 14 لاکھ ویوز حاصل ہوئے۔
ایک اور بھارت نواز اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا:
’پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر (ڈَرٹی ہیری)، ڈی جی آئی ایس آئی (کاؤنٹر انٹیلیجنس)، کو فوکیٹ میں کسی تلخ بحث کے بعد تھائی لیڈی بوائز نے بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا۔‘
اس پوسٹ کو 5 لاکھ 75 ہزار 800 مرتبہ دیکھا گیا۔
اسی دوران ایک اور بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ، جو عموماً پاکستان مخالف مواد شیئر کرتا ہے، نے 31 مئی کو ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے دعویٰ کیا:
’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے وعدہ کی گئی رقم ادا نہ کرنے پر مارا پیٹا۔ اس سے قبل 2025 میں بھی ان کی اپنی کم عمر کزن کے ساتھ ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔‘
اس پوسٹ کو 1 لاکھ 40 ہزار ویوز ملے۔
اس کے علاوہ متعدد دیگر صارفین (جن میں اکثریت بھارتی معلوم ہوتی ہے) نے بھی اسی نوعیت کے دعووں کے ساتھ یہ ویڈیو شیئر کی، جن کی مجموعی ویوز 2 لاکھ 10 ہزار سے زائد رہے۔
View this post on Instagramحقائق کی جانچ کیسے کی گئی؟
اس دعوے کی غیر معمولی مقبولیت اور عوامی دلچسپی کے باعث اس کی حقیقت جانچنے کے لیے فیکٹ چیک کا آغاز کیا گیا۔
ویڈیو کے اصل ماخذ تک پہنچنے کے لیے گوگل ریورس امیج سرچ کی گئی، جس کے نتیجے میں یہی ویڈیو 3 جنوری 2026 کی ایک ایکس پوسٹ میں ملی، جسے ایک بھارتی صارف نے شیئر کیا تھا۔
اس پوسٹ کے کیپشن میں لکھا گیا تھا:
’تھائی لینڈ میں ایک بھارتی شہری کی پٹائی۔ 52 سالہ بھارتی شخص راج جسوجا نے مبینہ طور پر 'سروسز' کی ادائیگی سے انکار کیا، جس پر خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔ رپورٹس کے مطابق اسے علاج کے لیے پٹایا میموریل اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔‘
"An Indian thrashed in Thailand." ????
A 52-year-old Indian man, Raj Jasuja, who refused to pay for "services," was beaten by a group of transwomen in Thailand.
As per reports, he has been hospitalized at Pattaya Memorial Hospital for treatment. pic.twitter.com/FIcR6iYdaF
دعوے کی مزید تصدیق کے لیے کی گئی کی ورڈز پر مبنی سرچ کے دوران 4 جنوری 2026 کو شائع ہونے والی ایک خبر سامنے آئی، جسے ہندوستان ٹائمز نے شائع کیا تھا اور جس میں یہی ویڈیو شامل تھی۔
خبر کی سرخی تھی:
’آن کیمرا: تھائی لینڈ میں 'سروس' کی ادائیگی سے انکار پر بھارتی شہری کو خواجہ سراؤں نے تشدد کا نشانہ بنا دیا‘
رپورٹ کے مطابق 52 سالہ بھارتی شہری راج جسوجا کو تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اس وقت مارا پیٹا جب اس نے مبینہ طور پر جنسی خدمات کے عوض طلب کی گئی رقم ادا کرنے سے انکار کیا اور گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے نکلنے کی کوشش کی۔
ریسکیو اہلکاروں نے راج جسوجا کو چہرے اور سر کے پچھلے حصے پر زخموں کی حالت میں پایا۔ موقع پر اسے ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی، جس کے بعد مزید علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
جنوری 2026 میں شائع ہونے والی متعدد دیگر معروف بھارتی میڈیا رپورٹس، جن میں The Times of India، The Indian ExpressاورIndia Today شامل ہیں، نے بھی اسی واقعے کو تقریباً یکساں تصاویر اور تفصیلات کے ساتھ رپورٹ کیا۔
فیکٹ چیک کا نتیجہ: خبر غلط قرار
یہ دعویٰ کہ وائرل ویڈیو میں پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے دکھایا گیا ہے، جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے اور اس میں ایک بھارتی شہری کو تھائی خواجہ سراؤں کے ہاتھوں مبینہ طور پر ایسکارٹ سروس کی ادائیگی سے متعلق تنازع کے بعد تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
لہٰذا سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا یہ دعویٰ حقائق کے منافی ہے اور ویڈیو کا میجر جنرل فیصل نصیر یا پاکستانی فوج سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔
یہ فیکٹ چیک اصل میں iVerify Pakistan کی جانب سے شائع کیا گیا تھا، جو Centre for Excellence in Journalism (CEJ-IBA) اور United Nations Development Programme (UNDP) کا مشترکہ منصوبہ ہے۔