عسکری قیادت کا دوٹوک موقف
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا ہے کہ پاکستان نے افغانستان میں کوئی خفیہ کارروائی نہیں کی، پاکستان جب بھی کسی مقام پر کارروائی کرتا ہے تو کھلم کھلا اعلان کرکے کرتا ہے،سینئر صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان ایک ذمے دار ریاست ہے جو ریاست کی حیثیت سے ہی ردعمل دیتا ہے۔ہم نے انڈیا کو گرایا تو اپنی سیکیورٹی خود کی ، کسی کے سامنے گڑگڑائے نہیں، ہماری نظر میں کوئی گڈ یا بیڈ طالبان نہیں، تمام دہشت گردوں کے ساتھ یکساں رویہ اپنایا جاتا ہے۔
پاکستان اس وقت کئی دہائیوں کے بعد ایک بار پھر ایسے سنگین چیلنجز کے سامنے کھڑا ہے جو ریاستی ذمے داری، سرحدی تحفظ، داخلی سلامتی اور معاشی باقاعدگی کے بنیادی سوالات کو نہایت شدت سے اُجاگر کر رہے ہیں۔ ایسے میں پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا حالیہ بیان نہ صرف زمینی حقائق کا آئینہ دار ہے بلکہ ملکی پالیسی کے لیے نئی سمت بھی متعین کرتا دکھائی دیتا ہے۔ ان کے نکات میں جہاں عسکری وضاحت ہے، وہیں ملکی حکمرانی، سرحدی نظم و ضبط اور داخلی انتظامی امور پر بھی کھلے الفاظ میں توجہ دلائی گئی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا یہ کہنا کہ پاکستان نے گزشتہ شب افغانستان میں کوئی کارروائی نہیں کی، اور یہ کہ پاک فوج ’’چھپ کر حملہ نہیں کرتی‘‘ ایک نہایت اہم سفارتی پیغام ہے۔ خطے میں افواہوں اور پروپیگنڈہ کے ایسے ماحول میں یہ مؤقف دونوں ملکوں کے درمیان غلط فہمیوں کے خاتمے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ پاک فوج کی طرف سے یہ وضاحت کہ پاکستان کا مسئلہ افغان عوام سے نہیں بلکہ عبوری حکومت کے رویے سے ہے، تعلقات میں دراڑ نہیں بلکہ شفافیت کی نشاندہی کرتی ہے۔
ریاست پاکستان بارہا واضح کر چکی ہے کہ سرحد پار موجود دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ اس تناظر میں ترجمان کا یہ کہنا کہ ’’ہماری نظر میں کوئی گڈ اور بیڈ طالبان نہیں‘‘ ایک بڑا پالیسی سنگ میل ہے جسے ماضی میں مختلف زاویوں سے دیکھا جاتا رہا۔دوسری جانب مختلف رپورٹس، تجزیات اور سفارتی حلقوں کی گفتگو سے یہ تاثر ملتا ہے کہ بھارت سیکیورٹی مقاصد کے لیے افغانستان میں موجود ایسے گروہوں یا عناصر تک رسائی برقرار رکھنا چاہتا ہے جنھیں پاکستان مخالف سرگرمیوں میں استعمال کیا جا سکے۔
یہ تاثر صرف پاکستان کے سیکیورٹی حلقوں تک محدود نہیں بلکہ خطے کے غیر جانب دار تجزیہ کار بھی اس خدشے کا اظہار کرتے ہیں کہ بھارت کے لیے افغانستان ہمیشہ سے’’اسٹرٹیجک ڈیپتھ‘‘کا ایک الٹا ماڈل رہا ہے یعنی پاکستان کو مغربی سرحد سے دباؤ میں لانے کا موقع۔پاکستان گزشتہ دو دہائیوں میں خود دہشت گردی کی ایک طویل اور تباہ کن جنگ لڑ چکا ہے۔
ہزاروں جانوں کی قربانیاں، کئی دہائیوں کا معاشی نقصان، اور داخلی عدم استحکام نے پاکستانی ریاست اور عوام دونوں کو مسلسل آزمائشوں سے گزارا۔ ایسے حالات میں اگر بھارتی ادارے یا ریاستی پالیسی ساز افغانستان کے بعض گروہوں کو پاکستان کے خلاف سرگرمیوں کے لیے استعمال کرتے ہیں، تو یہ نہ صرف خطے میں مزید بے چینی کا باعث بنتا ہے بلکہ افغانستان کو بھی عدم استحکام کے ایک نئے دور میں دھکیل سکتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ افغانستان کا داخلی ڈھانچہ ابھی مکمل طور پر مستحکم نہیں۔ وہاں مختلف قبائلی، سیاسی اور نظریاتی گروہ اب بھی اثرورسوخ رکھتے ہیں، چونکہ طالبان حکومت کو عالمی سطح پر تسلیم نہیں کیا گیا، اس لیے بیرونی سالمیت کے خلاف سازشیں، فنڈنگ کے نیٹ ورک اور پراکسی سرگرمیوں کا انسداد ایک پیچیدہ مسئلہ بن جاتا ہے۔ بھارت جیسے ممالک کے لیے یہی غیر یقینی صورتحال ایک ایسا میدان فراہم کرتی ہے جہاں وہ اپنے تزویراتی مقاصد کے لیے متحرک عناصر کو استعمال کر سکتے ہیں۔اسی پس منظر میں بھارت کی جانب سے پاکستان مخالف پروپیگنڈا بھی جاری ہے۔
عالمی فورمز پر پاکستان کے کردار کو منفی انداز میں پیش کرنا، مختلف ممالک کو پاکستان کے خلاف ہموار کرنا یا سوشل میڈیا کے ذریعے پروپیگنڈا نیٹ ورک چلانا وہ عوامل ہیں جو پراکسی حکمت عملی کو تقویت دیتے ہیں۔ عسکری پراکسی سے لے کر سفارتی پراکسی تک، بھارت اپنی پالیسیوں کے کئی پہلوؤں کو بیک وقت پاکستان کے گرد دائرہ تنگ کرنے کے لیے استعمال کرتا نظر آتا ہے۔تاہم یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ افغانستان کو پراکسی کے طور پر استعمال کرنے کا عمل افغانستان کے عوام کے لیے تباہ کن نتائج لاتا ہے۔
افغان عوام پہلے ہی چار دہائیوں سے جنگ، بیرونی مداخلت، معاشی تباہی اور سیاسی عدم استحکام کا شکار ہیں، اگر علاقائی طاقتیں افغانستان کو اپنی جنگوں کا میدان بناتی رہیں، تو یہ ملک کبھی بھی حقیقی امن، ترقی اور استحکام کی طرف پیش قدمی نہیں کر سکے گا۔پاکستان اور افغانستان دونوں کے لیے امن کا راستہ اس میں ہے کہ ایک دوسرے کے معاملات میں عدم مداخلت کی پالیسی اپنائی جائے، اور خطے میں بڑے ممالک کی پراکسی کی گنجائش کم سے کم ہو۔
بھارت اگر واقعی خطّے میں امن چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ افغانستان کو ایک آزاد، خودمختار اور مستحکم ریاست کے طور پر قبول کرے، نہ کہ اسے اپنی تزویراتی جنگ میں ایک مہرہ بنائے۔افغان طالبان حکام کو ’’غیر ریاستی عناصر کی طرح فیصلہ نہیں کرنا چاہیے‘‘ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اب بہت واضح، سیدھی اور غیر مبہم زبان میں اپنے تحفظات بیان کر رہا ہے۔ طالبان عبوری حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ان کی حکمرانی کا انداز براہ راست سرحدی سلامتی کو متاثر کرتا ہے۔پاکستان اپنے اندرونی معاملات میں کسی بھی مسلح گروہ یا شدت پسند سوچ کے لیے کوئی نرم گوشہ رکھنے کو تیار نہیں۔ یہ ایک مستقل پالیسی کا اعلان ہے کہ اب کسی غیر ریاستی عنصر کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔ پاکستان کو درپیش داخلی سلامتی کے چیلنجز میں سب سے بڑا خطرہ وہ غیر قانونی معیشت ہے جو سرحدی اسمگلنگ سے پھلتی پھولتی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے خیبر پختونخوا حکومت کی کمزور پالیسیوں کی نشاندہی کی ہے۔ یہ بات کسی الزام تراشی کا حصہ نہیں بلکہ ایک ریاستی حقیقت ہے جسے تسلیم کرنا ضروری ہے۔ 1229 کلومیٹر طویل بارڈر پر انتظامی کمزوری دشمن کے لیے کھلی دعوت ہے۔افغانستان کے ساتھ قبائلی روایات، مذہبی روابط اور معاشی انحصار کی وجہ سے یہاں کی انتظامیہ کو مزید فعال، حاضر دماغ اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہونا ہوگا۔گو بلوچستان میں ایرانی ڈیزل کی اسمگلنگ کم ہونے کے بعد حالات میں واضح بہتری آئی ہے، مگر اصل چیلنج اب بھی موجود ہے: دہشتگردی کی ممکنہ واپسی، معاشی محرومی اور بیرونی مداخلت۔ ترجمان کے مطابق بلوچستان میں خیبر پختونخوا کے مقابلے میں زیادہ کارروائیاں ہوئیں، لیکن اصل ضرورت یہ ہے کہ ترقی، سیاسی ہم آہنگی اور سرکاری عمل داری کو برقرار رکھا جائے۔
ترجمان کا یہ مشاہدہ کہ افغان طالبان اور کالعدم ٹی ٹی پی کے بیانیے میں نمایاں فرق نہیں دکھائی دیتا، لمحہ فکریہ ہے‘ یہ جملہ دراصل پورے خطے کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔دو ریاستوں کے درمیان بنیادی تعلقات اسی وقت بہتر ہوسکتے ہیں جب دہشت گرد گروہوں کو کسی قسم کی خاموش حمایت حاصل نہ ہو۔پاکستان میں ریاستی رٹ قائم رکھنا صرف عسکری اداروں کی ذمے داری نہیں بلکہ پورے سیاسی و انتظامی ڈھانچے کا مشترکہ فرض ہے۔ کوئی بھی گروہ، خواہ مسلح ہو یا شدت پسندانہ سوچ کا حامل، اگر ریاست کے قوانین سے بالاتر ہونے کا خیال کرے تو اسے سختی سے روکا جانا لازمی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ترجمان کا مذہبی، سیاسی اور مسلح جتھوں کے حوالے سے واضح مؤقف قومی اتفاقِ رائے کے لیے بنیاد فراہم کرتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنے بیان کے آخر میں کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فتحیاب ہوگا ، مگر اس کے لیے ہمیں اپنا گھر خود بھی درست کرنا ہوگا۔یہ جملہ پاکستان کے اجتماعی مسئلے کا جامع خلاصہ ہے۔ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ سرحدوں پر سیکیورٹی کی بہتری کے ساتھ ساتھ ملک کے اندر بھی ایسی پالیسیاں، اصلاحات اور انتظامی اقدامات ضروری ہیں جن سے ریاست اور عوام دونوں محفوظ رہیں۔
جب تک سیاسی قیادت باہمی تصادم سے نکل کر قومی سلامتی کو ترجیح نہیں دے گی،جب تک صوبائی حکومتیں سرحدی علاقوں میں مضبوط حکمرانی قائم نہیں کریں گی،جب تک غیر قانونی معیشت کا خاتمہ نہیں ہوگا،اور جب تک دہشت گردی کے بیانیے کو فکری سطح پر شکست نہیں دی جائے گی،ملک مکمل طور پر محفوظ نہیں ہوسکتا۔پاک فوج کے ترجمان کے بیان نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ یہ جنگ صرف بندوقوں سے نہیں جیتی جا سکتی۔ اس کے لیے سیاسی بصیرت، انتظامی سنجیدگی، معاشی شفافیت، اور عوامی حمایت کی ضرورت ہے۔
افغانستان کے ساتھ تعلقات ہوں یا داخلی حکمرانی، احتساب کا عمل ہو یا سرحدی سیکیورٹی تمام محاذوں پر پاکستان کو مضبوط فیصلے کرنے ہوں گے۔اگر ریاست بھی اپنا کردار ادا کرے، حکومت بھی ذمے دارانہ رویہ اپنائے، اور عوام بھی قومیت کے جذبے سے سرشار ہوں، تو یقیناً ہم دہشت گردی کے خلاف اس طویل جنگ میں فتحیاب ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: افغانستان کو افغانستان کے پاکستان کے استعمال کر کہ پاکستان نہیں بلکہ اور عوام میں کوئی کہ افغان نہیں کر کے خلاف نہیں کی کرتا ہے کے ساتھ پاک فوج کہ پاک کے لیے
پڑھیں:
عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔
ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔
ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔
ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔
اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔
نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔
لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔
سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔
بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔
پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔