قائدِ عوام یونیورسٹی کی انتظامیہ کےخلاف طلبہ کا زبردست احتجاج،دھرنا دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نواب شاہ: (رپورٹ کاشف رضا) نواب شاہ میں قائدِ عوام یونیورسٹی کے طلبہ کا یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف شدید احتجاج کیا گیا جبکہ دھرنا بھی دے دیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق نواب شاہ تھانہ کی حدود میں واقع قائدِ عوام یونیورسٹی کے طلبہ نے یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف نثار سولنگی، نواز زہری، کامل رند، ارسلان لہڑی، عبدالحق رند اور دیگر کی قیادت میں سخت احتجاج کیا۔مسلسل نعرے بازی جاری ہے جبکہ دھرنا خم کرانے کے لئے پولیس کے ساتھ مذاکرات بھی ناکام ہوگئے ہیں۔
میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے طلبہ کا کہنا تھا کہ قائدِ عوام یونیورسٹی کی انتظامیہ نے ہمارے خلاف ظلم، جبر اور سختیاں بڑھا دی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہماری فیسوں میں بلاجواز اضافہ کر دیا گیا ہے، اور رات 11 بجے مین گیٹ بند کر دیا جاتا ہے۔
طلبہ نے کہا کہ اگر کوئی طالبِ علم رات گئے کھانے کے لیے باہر جانا چاہے یا بیماری کی صورت میں اسپتال جانا ہو تو گیٹ بند ہونے کی وجہ سے باہر نہیں جا سکتے۔
طلبہ کا مزید کہنا تھا کہ جب تک وائس چانسلر ہم سے بات کرکے مسائل حل نہیں کرتے، ہمارا احتجاج اور دھرنا جاری رہے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عوام یونیورسٹی طلبہ کا
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔