خوبی نہ ظاہر میں، نہ باطن میں: ٹرمپ کا صحافیوں کےخلاف زہریلاروّیہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن: خوبی نہ ظاہر میں، نہ باطن میں،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر صحافیوں کے خلاف اپنے سخت اور جارحانہ رویّے کا مظاہرہ کیا ہے اور اس بار نشانے پر نیویارک ٹائمز کی رپورٹر کیٹی راجرز آگئیں۔
صدرٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پوسٹ کرتے ہوئے رپورٹر کو “a third rate reporter who is ugly, both inside and out” یعنی “تیسری درجے کی رپورٹر جو اندر اور باہر دونوں طرف سے بدنما ہے” جیسے الفاظ سے مخاطب کیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے اس تازہ بیان نے ایک مرتبہ پھر امریکی صدر اور میڈیا کے درمیان جاری کشیدہ تعلقات کو نمایاں کردیا ہے۔ مبصرین کے مطابق ٹرمپ نے اپنے دورِ صدارت میں متعدد بار صحافیوں کو نشانہ بنایا، انہیں جھوٹا، جانبدار اور عوام دشمن تک قرار دیا، تاہم کسی صحافی کی ذاتی صورت یا کردار پر اس قدر سنگین حملہ غیرمعمولی سمجھا جا رہا ہے۔
یہ حملہ گزشتہ چند ہفتوں میں خاتون صحافیوں کے خلاف ٹرمپ کی مسلسل تنقید اور توہین کی ایک اور مثال ہے۔ جب صحافی اپنی ذمہ داری نبھاتے ہیں، تب ان پر ذاتی حملے کرنا صرف ان کی عزت کو نہیں بلکہ آزادی اظہار اور جمہوری صحافت کو نشانہ بناتا ہے۔
ریاست اور حکمرانوں کی طرف سے صحافیوں کو خاموش کرنے کی کوششوں پر آزادی اظہارِ رائے کے ہر حامی کو آواز اٹھانی چاہئےکیونکہ تنقید، اظہار کی آزادی اور حقائق تک عوام کی رسائی جمہوریت کی بنیاد ہے،
یاد رہے کہ کیٹی راجرز نے ایک مضمون میں صدر کی عمر اور اس سے منسلک ضعف پر سوالات اٹھائے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔