ویشنو دیوی میڈیکل کالج جموں میں میں مسلم طلبہ کے داخلوں پر ہندو انتہا پسندوں کا احتجاج جاری
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
بی جے پی سمیت متعدد ہندو تنظیموں نے بھی اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے مسلم طلبہ کے داخلوں کو منسوخ کرکے انہیں کسی اور ادارے میں داخلہ دینے، نیز اس ادارے میں ہندو طلبہ کیلئے داخلوں کو مخصوص رکھنے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ویشنو دیوی میڈیکل کالج جموں میں مسلم طلبہ کے داخلوں پر جموں میں احتجاجوں کا سلسلہ جاری ہے۔ چند روز قبل بجرنگ دل کے بعد آج شیوسینا ڈوگرا فرنٹ نے بھی جموں کے رانی پارک علاقے میں احتجاج کرتے ہوئے "ہندو کالج" کو ہندو طلبہ کے لئے مخصوص رکھنے اور مسلم طلبہ کا داخلہ کسی اور میڈیکل کالج میں کرانے کا مطالبہ کیا۔ احتجاج کر رہے ڈوگرہ فرنٹ کے کارکنان نے مظاہرے کے دوران ایل جی انتظامیہ کے خلاف سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ تنظیم کے صدر اشوک گپتا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ ہندو مذہبی بورڈ، شری ماتا ویشنو دیوی کٹرا یونیورسٹی کے زیر انتظام چلایا جا رہا ہے، اس لئے جموں و کشمیر بورڈ آف پروفیشنل انٹرنس اگزامینیشن کا مسلم طلبہ کو یہاں داخلہ دینے کا فیصلہ ناقابل قبول ہے۔
جموں میں گزشتہ کئی روز سے اس معاملے پر احتجاج جاری ہے اور بی جے پی سمیت متعدد ہندو تنظیموں نے بھی اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے مسلم طلبہ کے داخلوں کو منسوخ کرکے انہیں کسی اور ادارے میں داخلہ دینے، نیز اس ادارے میں ہندو طلبہ کے لئے داخلوں کو مخصوص رکھنے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس حوالے سے سخت گیر ہندو تنظیموں کے رہنماؤں نے ایل جی دفتر میں ایک یادداشت بھی پیش کی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ اکتوبر میں شری ماتا ویشنو دیوی انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل ایکسیلنس میں کل 50 میں سے 42 نشستوں پر مسلم طلبہ کے داخلے کے بعد یہ تنازع شروع ہوا۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ اگر داخلوں کا فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو احتجاج مزید سخت کیا جائے گا۔ ادھر جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے اس معاملے پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے ان داخلوں کا دفاع کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ داخلے مذہب کی بنیاد پر نہیں بلکہ میرٹ (اہلیت) کی بنیاد پر دئے گئے ہیں اور کالج نے کبھی بھی "اقلیتی ادارہ" (Minority Institute) ہونے کا دعویٰ نہیں کیا ہے۔ عمر عبداللہ کے مطابق جب ویشنو دیوی یونیورسٹی کا بل اسمبلی نے منظور کیا تھا، تب کہاں لکھا تھا کہ ایک مذہب کے بچوں کو (اس ادارے سے) باہر رکھا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مسلم طلبہ کے داخلوں ویشنو دیوی کرتے ہوئے داخلوں کو کیا ہے
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔