تعلیم کو مذہبی رنگ دینا گہری سازش ہے، عمر عبداللہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
بی جے پی ترجمان نے کہا ہے کہ داخلے کے عمل پر انہیں شدید اعتراضات ہیں اور ہندو برادری کے ایک حصے میں ناراضگی پائی جاتی ہے کیونکہ بڑی تعداد میں مسلم طلبہ کے انتخاب سے عقیدتمند کافی پریشان ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسیلنس (جموں) میں مسلم طلبہ کے داخلوں کو لے کر بڑھتے تنازعے کے بیچ، جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بدھ کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کو مذہبی رنگت دینا درست نہیں۔ عمر عبداللہ نے ان باتوں کا اظہار سرحدی ضلع پونچھ کے ایک معروف اسلامی تعلیمی ادارے جامعہ ضیاء العلوم کی گولڈن جوبلی تقریب کے دوران خطاب کرتے ہوئے کیا، جہاں ان کے ہمراہ کابینہ وزراء بھی تھے، جنہوں نے آئینی اور جمہوری اقدار کو فروغ دینے میں "مدرسہ ضیاء العلوم" کے کردار کی تعریف کی۔ جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ نے ان لوگوں کو خبردار کیا جو مذہبی اداروں کے خلاف غلط پروپیگنڈا اور نفرت پھیلاتے ہیں۔
سرحدی ضلع میں واقع یہ قدیم دینی ادارہ رواں برس مئی کے مہینے میں بھارت پاکستان جنگ کے دوران پاکستانی گولہ باری سے متاثر ہوا تھا۔ پاکستانی گولہ باری سے اس ادارے کے بزرگ استاد حافظ محمد اقبال بھی جانبحق ہوئے تھے۔ حالانکہ اُس وقت بھارت کے بعض میڈیا اداروں نے حافظ محمد اقبال کو "دہشتگرد" گردانا تھا۔ تقریب کے دوران عمر عبداللہ نے اس ادارے کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ یہ جمہوری اور آئینی اقدار کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے اُن عناصر کی بھی مذمت کی جو ویشنو دیوی میڈیکل کالج میں مسلم طلبہ کے داخلوں کو مذہبی رنگت دے رہے ہیں، وہ بھی ایک ایسے وقت میں جب 10 نومبر کو دہلی میں ہوئے دھماکوں کے پیچھے کشمیری ڈاکٹروں کے مبینہ ملوث ہونے کے بعد مسلمانوں خاص کر کشمیریوں کو شک کی نگاہوں سے دیکھا جا رہا ہے۔
عمر عبداللہ نے پونچھ میں اپنے خطاب کے دوران کہا کہ جب ہم یہاں پہنچے تو قومی ترانہ اور حب الوطنی کے گیت بجائے گئے، مجھے لگا کاش وہ لوگ جو سوشل میڈیا اور نیوز چینلز پر مذہبی اداروں کے خلاف زہر اگلتے ہیں، آج یہاں ہوتے اور یہ سب دیکھتے۔ وہ پروپیگنڈا کرتے رہتے ہیں کہ ان اداروں میں صرف نفرت سکھائی جاتی ہے۔ وزیراعلیٰ نے ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج میں مسلم طلبہ کے داخلوں پر نام لئے بغیر بھارتیہ جنتا پارٹی کی شدید مذمت کی۔ یاد رہے کہ چند روز قبل بی جے پی لیڈر اور اپوزیشن لیڈر سنیل شرما نے ایل جی منوج سنہا کو ایک میمورنڈم میں مطالبہ کیا تھا کہ میڈیکل کالج کے داخلوں میں "ماتا ویشنو دیوی" کے عقیدت مندوں کے جذبات کا خیال رکھا جائے۔
ایک بی جے پی ترجمان کے مطابق شرما نے کہا ہے کہ داخلے کے عمل پر انہیں شدید اعتراضات ہیں اور ہندو برادری کے ایک حصے میں ناراضگی پائی جاتی ہے کیونکہ بڑی تعداد میں مسلم طلبہ کے انتخاب سے عقیدتمند کافی پریشان ہیں۔ عمر عبداللہ نے اس سے قبل بھی واضح کیا تھا کہ میڈیکل کالج میں داخلے قابلیت کی بنیاد پر دئے گئے نہ کہ مذہب کی بنیاد پر۔ تام دائیں بازو جماعتوں نے جموں میں احتجاج کرتے ہوئے ویشنو دیوی میڈیکل کالج میں ہندوؤں کے لئے خصوصی ریزرویشن کا مطالبہ کیا تھا۔ عمر عبداللہ نے جامعہ ضیاء العلوم کا دفاع کرتے ہوئے ایسے تمام عناصر کی مذمت کی جو مذہبی اداروں کو بدنام کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے، یہاں قومی ترانہ، حب الوطنی کے گیت اور وہ بھی یومِ دستور پر، یہ سب قابل تعریف ہے۔ کاش نفرت پھیلانے والے لوگ ایک دن پونچھ آ کر یہاں رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ایسے اداروں کے خلاف جو نفرت اور پروپیگنڈا پھیلایا جا رہا ہے، وہ غلط ہے اور اس سے ملک کا ہی نقصان ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے دیباچے میں لکھا ہے کہ ہر مذہب کو برابر کا حق ملے گا، ہر شہری کو جمہوریت اور قانون کا تحفظ فراہم ہوگا لیکن آج ہم ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں تعلیم کو بھی مذہبی رنگ دیا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: میں مسلم طلبہ کے میڈیکل کالج میں عمر عبداللہ نے ویشنو دیوی کے داخلوں کرتے ہوئے کے دوران انہوں نے بی جے پی کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔