پاکستانی ہندو کمیونٹی کی بھارتی وزیر دفاع کیخلاف بھارتی ہائی کمیشن پر دھرنے کی دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
کراچی:
ملک بھر کی محب وطن ہندو کمیونٹی نے بھارتی وزیر دفاع کو اپنا متنازع بیان واپس لینے کیلئے تین دن کا الٹی میٹم دے دیا بصورت دیگر بھارتی ہائی کمیشن پر دھرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔
اس سلسلے میں جمعرات کو کراچی پریس کلب کے باہر صدر پاکستان ہندو کو نسل پرشوتم رمانی کی قیادت میں ہندو کمیونٹی کے افراد کی بڑی تعداد نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ احتجاجی مظاہرے میں وکرم راٹھی، مان لال اور چیف کو آرڈی نیٹر کرشن ساگر سمیت ہندو کونسل کے اعلی عہدے دار، سول سوسائٹی، اسٹوڈنٹس اور میڈیا سمیت مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والوں نے شرکت کی۔
شرکاء نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن میں پاکستان زندہ باد، سندھ ہماری دھرتی ماں اور بھارتی وزیر دفاع کے قابل مذمت بیان کے خلاف نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے پاکستان زندہ باد، پاک فوج باد کے نعرے لگائے، مودی حکومت اور بھارتی وزیر دفاع کے خلاف نعرے بازی کی۔
پاکستان ہندو کونسل کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرے کے شرکا نے ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی کا یہ مطالبہ بھی دہرایا کہ بھارتی وزیر دفاع کے غیر ذمہ دارانہ بیان کا سفارتی سطح پر موثر نوٹس لیا جائے اور عالمی برادری کو بھی بھارت کی بلاجواز اشتعال انگیزی سے آگاہ کیا جائے۔
صدر پرشوتم روانی نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا احتجاج ہمارے تین روزہ احتجاجی مظاہروں کی پہلی کڑی ہے، ہم راج ناتھ سنگھ کے غیر محتاط، اشتعال انگیز اور حقائق کے منافی بیان کی پر زور مذمت کرتے ہیں اور مودی سرکار سے مطالبہ کرتے ہیں کہ راج ناتھ کے بیان سے سرکاری سطح پر لاتعلقی کا اظہار کیا جائے اور جواب طلبی کی جائے۔
اس موقع پر چیف کوآرڈی نیٹر کرشن ساگر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ سندھ پاکستان کا اٹوٹ انگ ہے، بھارتی وزیر دفاع کا بیان نہ صرف حقیقت، بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے چارٹر اور عالمی سفارتی روایات کی بھی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ پاکستان ہندو کو نسل کی جانب سے دوسرا بڑا احتجاجی مظاہرہ سوامی نارائن مندر سولجر بازار اور تیسر احتجاج ہفتے کو تین تلوار کراچی میں کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اس موقع پر شرکا نے اس تجویز پر جوش و خروش کا اظہار کیا کہ اگر مودی سرکار نے اپنے وزیر دفاع کو لگام نہ دی اور تین دن کے اندر اپنا اشتعال انگیز بیان واپس نہ لیا تو پھر اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے باہر دھرنے کا اعلان کیا جائے گا۔
صدر پاکستان ہندو کو نسل پرشوتم رامانی نے مظاہرین کو پُرامن انداز میں اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے پر شاباش دیتے ہوئے کہا کہ تین روزہ مظاہرے کی تفصیلی رپورٹ پاکستان ہندو کونسل کی مینیجنگ کمیٹی کو اگلے ہفتے منعقد و اجلاس میں پیش کی جائے گی، پاکستان ہندو کونسل کی اعلی قیادت نے اس حوالے سے حتمی فیصلے کا اختیار سرپرست اعلی ڈاکٹر رمیش کمار و انکوانی کو سونپ رکھا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بھارتی وزیر دفاع پاکستان ہندو کو ہندو کونسل کیا جائے
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم