دہشتگردی کے مرکز افغانستان سے تاجکستان پر ڈرون حملہ، چینی شہریوں کا جانی نقصان
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
سٹی42: انٹرنیشنل دہشتگردی کے مرکز افغانستان سے تاجکستان کی سرحد پر ڈرون حملہ ہوا ہے جس میں کم از کم تین چینی شہریوں کے جاں بحق ہونے کی اطلاع ہے۔
تاجکستان کےسرکاری حکام نے بتایا ہے کہ کل 26 نومبر کی رات افغانستان سے تاجکستان کی سرحد پر ڈرون حملہ کیا گیا، اس حملے میں 3 چینی شہری ہلاک ہوئے۔
تاجک میڈیا کے مطابق یہ واقعہ تاجکستان کے صوبہ ختلان کے ضلع شمس الدین شاہین اور افغانستان کے صوبہ بدخشاں کے ضلع شہرِ بزرگ کے درمیان سرحدی علاقے میں پیش آیا۔
کاغان کے بازار میں آگ بھڑک اٹھی،50 کمروں پر مشتمل ہوٹل جل کر راکھ
تاجکستان کی وزارت خارجہ نے بتایا ہے کہ افغانستان سے تاجکستان کے جنوب میں ایک چینی کمپنی کے کیمپ پر ڈرون سے پراسرار حملہ کیا گیا۔
تاجکستان کی وزارت خارجہ نے بتایا کہ افغانستان سے ہونے والے اس حملے میں فوت ہونے والے چینی کمپنی کے ملازمین تھے جو یہاں پر تعمیراتی کام کے لئے موجود تھے۔
تاجکستان کی حکومت نے دہشتگردی کے س واقعہ کے بعد کہا ہے کہ تاجکستان تو سرحدی علاقوں میں امن، استحکام اور سکیورٹی برقرار رکھنے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہا ہے، لیکن افغانستان کے اندر موجود مجرمانہ (دہشتگرد) گروہوں کی تخریبی سرگرمیاں اب بھی جاری ہیں۔
نیپال کرکٹ لیگ میں سٹہ، 9 بھارتی جواری گرفتار
تاجکستان نے دہشت گرد حملے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے افغان طالبان کی عبوری حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سرحد پر امن اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔
افغانستان کے اندر دہشتگردی کی جنتوں میں رہ کر ہمسایہ ممالک میں دہشتگردی کرنے والے فسادی صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ تاجکستان کی سرحد کے ساتھ پہاڑی علاقوں میں بھی سرگرم ہیں۔
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: افغانستان سے تاجکستان تاجکستان کی
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔