تاجکستان کے سرحدی علاقے میں افغانستان سے ڈرون حملہ؛3چینی باشندے ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دوشنبہ: تاجکستان کی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ تاجکستان کی سرحد میں استقلال پوسٹ کی حدود میں قائم مزدوروں کے کیمپ پر افغانستان سے ڈرون حملہ ہوا جس میں تین چینی باشندے ہلاک ہوگئے۔
وزارتِ خارجہ تاجکستان کے مطابق 26 نومبر کی رات کو افغانستان کی حدود سے حملہ کیا گیا جس میں گرنیڈ اور اسلحہ لگا ڈرون استعمال ہوا جس میں ایل ایل سی شاہین ایس ایم کے تین چینی باشندے مارے گئے۔مزدوروں کا یہ کیمپ ’یول‘ بارڈر ڈٹachment کے علاقے میں فرسٹ بارڈر گارڈ پوسٹ ’استقلال‘ کے کنٹرول میں واقع تھا۔
تاجک حکام نے بتایا کہ وہ سرحدی علاقوں میں امن و استحکام قائم رکھنے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہے ہیں، لیکن افغانستان میں موجود جرائم پیشہ عناصر کی جانب سے امن کے لیے خطرات مسلسل جاری ہیں۔
تاجکستان نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم دہشت گرد گروپوں کے ان اقدمات کی شدید مذمت کرتے ہیں اور افغان حکمرانوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ سرحد پر امن اور استحکام کو یقینی بنائیں۔
تاجک وزارتِ خارجہ نے افغان حکام پر زور دیا کہ دونوں ہمسائیوں کے سرحد کی سیکیورٹی بنانے کیلئے اقدامات کیے جائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا
فائل فوٹوکراچی میں جیکسن کے علاقے میں بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ساؤتھ اسد رضا کے مطابق 6 سالہ بچی کی لاش آج دوپہر کو جیکسن کے علاقے سے ملی تھی، ملزم کی گرفتاری کے لیے جیسے ہی پولیس پہنچی، اُس نے پولیس پر فائرنگ کردی۔
ڈی آئی جی کا کہنا ہے کہ پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ملزم ہلاک ہوگیا، جس کے پاس سے اسلحہ برآمد ہوا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ بچی کل دوپہر کو لاپتا ہوئی تھی، آج اس کی لاش ملی، ابتدائی پوسٹ مارٹم میں بھی بچی کے ساتھ زیادتی کی تصدیق ہوگئی تھی۔