آسٹریلیا کے ساحل پر شارک کے حملے میں خاتون جاں بحق، ایک شخص زخمی
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
آسٹریلیا میں ایک اور المناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں ساحلِ سمندر پر شارک کے حملے نے ایک خاتون کی جان لے لی جبکہ ایک اور شخص شدید زخمی ہو گیا، جس کے بعد مقامی انتظامیہ نے ساحل کو فوری طور پر عوام کے لیے بند کر دیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ نیو ساوتھ ویلز کی مشہور تفریحی جائے وقوعہ کائلز بیچ پر اس وقت پیش آیا جب ایک بڑی بل شارک نے اچانک پانی میں موجود افراد پر حملہ کر دیا۔ حملہ اتنا شدید تھا کہ خاتون موقع پر ہی دم توڑ گئی جبکہ ساتھ موجود شخص شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔
پولیس حکام نے تصدیق کی ہے کہ امدادی ٹیموں نے پہنچ کر خاتون کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی، مگر وہ زخموں کے باعث جانبر نہ ہو سکیں۔ زخمی شخص کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ شارک کے حملے کے بعد ساحلی علاقے کو مکمل طور پر سیل کر کے سرچ اور سرویلنس آپریشن شروع کر دیا گیا ہے تاکہ مزید کسی ممکنہ خطرے کو روکا جا سکے۔
واضح رہے کہ آسٹریلیا میں رواں سال کے دوران شارک کے حملے کا یہ پانچواں واقعہ ہے، جس کے بعد مقامی کمیونٹیز میں تشویش کی لہر پھیل گئی ہے اور ماہرین ایک بار پھر ساحلی سیکیورٹی اقدامات پر نظرثانی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ویب ڈیسک
دانیال عدنان
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شارک کے حملے
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔