data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

امریکی ریاست واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ کے واقعے میں نیشنل گارڈ کے دو اہلکار زخمی ہوگئے۔

امریکی میڈیا کے مطابق ایک شخص نے وائٹ ہاؤس کے نزدیک نیشنل گارڈ اہلکاروں پر گولیاں چلائیں، جس سے دونوں شدید زخمی ہوئے۔ واقعے کے بعد پولیس کی بھاری نفری فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور زخمی اہلکاروں کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔

حکام کے مطابق فائرنگ میں ملوث ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے کہا کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور صدر ٹرمپ کو واقعے سے متعلق مکمل بریفنگ دے دی گئی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق فائرنگ کے بعد وائٹ ہاؤس کو عارضی طور پر بند کردیا گیا جبکہ جائے وقوعہ کے اطراف کا علاقہ سیل کر دیا گیا۔ پولیس نے شہریوں کو آئی اسٹریٹ کے قریب نہ جانے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔

امریکی ہوم لینڈ سیکیورٹی کی سیکرٹری نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر واقعے سے متعلق معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔

واقعے پر ردِعمل دیتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملہ آور کو “جانور” قرار دیتے ہوئے کہا کہ نیشنل گارڈ اہلکاروں پر حملہ کرنے والے کو اس کی بھاری قیمت چکانا ہوگی۔

ویب ڈیسک مقصود بھٹی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نیشنل گارڈ وائٹ ہاؤس

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • مبینہ مقابلے‘ 45 سے زائد مقدمات کا ملزم گوجرانوالہ‘ 2 ڈ اکو پیر محل میں ہلاک 
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا