وائٹ ہاؤس کے قریب نیشنل گارڈز پر فائرنگ کرنے والا مشتبہ شخص افغان شہری نکلا
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ کے واقعے میں نیشنل گارڈ کے دو اہلکار شدید زخمی ہوگئے۔
امریکی میڈیا کے مطابق ایک شخص نے اہلکاروں پر اچانک فائرنگ کی جس کے بعد علاقے میں ہنگامی صورتحال پیدا ہوگئی۔ دونوں زخمی اہلکاروں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں ان کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔
پولیس کے مطابق مشتبہ حملہ آور کو جائے وقوعہ سے گرفتار کرلیا گیا۔ امریکی حکام نے بتایا کہ گرفتار شخص کی شناخت 29 سالہ افغان شہری رحمان اللہ لکنوال کے نام سے ہوئی ہے جو 2021 میں امریکہ آیا تھا۔
فائرنگ کے بعد وائٹ ہاؤس کو عارضی طور پر بند کردیا گیا جبکہ اطراف کے علاقے کو سیل کر کے شہریوں کو آئی اسٹریٹ سے دور رہنے کی ہدایت دی گئی۔
امریکی ہوم لینڈ سکیورٹی کی سیکرٹری نے کہا کہ واقعے کی تحقیقات کیلئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر معلومات جمع کی جا رہی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واقعے کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ بائیڈن دور میں امریکہ میں داخل ہونے والے تمام غیر ملکیوں کی دوبارہ جانچ پڑتال کی جائے گی۔
انہوں نے سوشل میڈیا پیغام میں حملہ آور کو “جانور” قرار دیتے ہوئے کہا کہ نیشنل گارڈ پر حملہ کرنے کی سنگین قیمت چکانا ہوگی۔
زخمی اہلکاروں کا تعلق ریاست ویسٹ ورجینیا سے تھا۔ ویسٹ ورجینیا کے گورنر نے کہا ہے کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور تحقیقات جاری ہیں۔
فائرنگ کے بعد سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر واشنگٹن کے رونالڈ ریگن ایئرپورٹ پر پروازوں کو عارضی طور پر روک دیا گیا، تاہم کچھ دیر بعد معمول کی پروازیں بحال کر دی گئیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
مردان: خیبرپختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے شیخ ملتون سیکٹر بی میں ایک گھر سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں برآمد ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق اطلاع موصول ہوتے ہی میڈیکل ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور پولیس کی موجودگی میں کارروائی کا آغاز کیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق تینوں لاشوں کو قانونی کارروائی اور ضروری معائنے کے لیے مردان میڈیکل کمپلیکس (ایم ایم سی) اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت جلال، زوجہ جلال اور مصطفیٰ کے ناموں سے ہوئی ہے۔
واقعے کی وجوہات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں، جبکہ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم اور تفتیشی عمل مکمل ہونے کے بعد واقعے کی اصل نوعیت واضح ہو سکے گی۔
پولیس اور متعلقہ ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ اہلِ علاقہ میں واقعے کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔