Express News:
2026-07-24@06:04:49 GMT

افغانستان سے تاجکستان پر ڈرون حملہ، 3 چینی ملازمین ہلاک

اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT

DUSHANBE:

افغانستان میں موجود دہشت گردوں کی وجہ سے صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دیگر پڑوسی بھی محفوظ نہیں ہیں اور تاجکستان کی سرحد پر افغان سرزمین سے تخریبی کارروائیاں جاری ہیں، جس کے نتیجے میں 3 چینی ملازمین ہلاک ہوگئے۔

تاجکستان کے کویت میں قائم سفارت خانے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق تاجکستان کی طرف سے سرحدی علاقوں میں امن و سلامتی کو برقرار رکھنے کی مسلسل کوششوں کے باوجود افغان سرزمین سے تخریبی کارروائیاں جاری ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ افغانستان سے دہشت گردوں نے 26نومبر کو رات تاجکستان کے سرحدی علاقے پر حملہ کیا، افغان علاقے سے ایل ایل سی شوہین ایس ایم ملازمین کے کیمپ پر مسلح حملہ کیا گیا،

حملے کے حوالے سے کہا گیا کہ حملہ ختلون کے علاقے میں واقع "یول" بارڈر کی پہلی گارڈ پوسٹ "استقلول" کے علاقے میں کیا گیا، حملہ دستی بموں اور آتشیں اسلحے سے لیس بغیر پائلٹ جہاز کے ذریعے کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ حملے کے نتیجے میں ایل ایل سی شاہین ایس ایم کے تین چینی ملازمین ہلاک ہوگئے ہیں۔

اس حوالے سے کہا گیا کہ تاجکستان کی جانب سے تاجکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی علاقوں میں سلامتی اور امن و استحکام کا ماحول برقرار رکھنے کے لیے مستقل کوششوں کے باوجود افغانستان کے اندر موجود جرائم پیشہ گروپس کی جانب سے تاحال تخریبی کارروائیاں جاری ہیں۔

تاجکستان نے افغان دہشت گرد گروپس کی تخریبی کارروائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شدید مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ افغان حکام ریاستی سرحد پر استحکام اور سلامتی یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کہا گیا کہ

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی