Express News:
2026-07-24@05:18:56 GMT

پاکستان ریلوے، نظام الاوقات

اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT

پاکستان کے کئی ریلوے اسٹیشنوں اورکئی مقامات پر انگریزوں نے اپنے دور میں بھاری بھرکم گھڑیاں لگا دی تھیں۔ اسٹیشنوں پر لگی گھڑیاں محض لوہے کا ایک پرزہ نہیں بلکہ اپنی گول مٹول جسامت کے ساتھ وہ آہنی آنکھ ہے جو شاید ایک صدی سے مسافروں کو دیکھتی چلی آ رہی ہے۔ انگریزوں نے یہ گھڑیاں اس لیے لگا رکھی تھیں کہ ٹرین وقت پر آئے، وقت پر جائے اور ان گھڑیوں کو دیکھ کر قوم بھی وقت کی پابندی سیکھ لے، لیکن ریلوے نے قوم کو ایسا سبق سکھایا کہ بار بار لیٹ آنا اور لیٹ جانا۔ اب یہ گھڑیاں وقت تو صحیح بتاتی ہیں لیکن ٹرین وقت کا مذاق اڑاتی ہے اور جب ٹرین لیٹ سے لیٹ ہو کر اسٹیشن پر پہنچتی ہوگی تو شاید یہ گھڑی مخاطب ہوتی ہو کہ میں تو ہر لمحہ آگے بڑھتی ہوں، صحیح وقت بتاتی ہوں، تم کیوں لیٹ ہو جاتے ہو؟ تمہاری بوگیوں میں بچے روتے ہیں۔

 عورتیں تھکی ہاری انتظار میں رہتی ہیں کہ ایک اسٹیشن آئے گا، مزدور کے کندھے کا درد بڑھ جاتا ہے جب تم لیٹ ہو جاتے ہو اور وہ بوڑھا مسافر اپنی جھکی ہوئی کمر کے ساتھ لاٹھی ٹیکتے ہوئے سوچتا ہوگا شاید کہ انگریز سرکار کے دور میں جب میں جوان تھا، ٹرین تو ایک سیکنڈ بھی لیٹ نہیں ہوتی تھی۔ شاید اس کی یاد داشت میں یہ بات بھی ہو کہ جب ٹرین پہنچتی تو ہم اپنی گھڑیاں درست کر لیتے تھے کیونکہ ہمیں اپنی گھڑیوں پر اعتماد نہ تھا جتنا کہ ٹرین کے رائٹ ٹائم پر پہنچنے کا۔ ٹرین کے انجن نے یہ جواب دیا ہو کہ میرا قصور نہیں ہے، یہ نظام کی خرابی ہے۔

ریلوے نظام کی اصلاح کی باتیں تو کئی دہائیوں سے ہو رہی تھیں لیکن اب وزیر اعظم نے زور دے کر کہا ہے کہ ریلوے نظام کسی ملک کی معیشت اور مواصلات کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کی اصلاح اور اپ گریڈیشن بہت ضروری ہے۔ وزیر اعظم نے ایک اعلیٰ سطح اجلاس میں یہ فیصلہ کیا کہ بین الاقوامی معیار کے قانونی اور معاشی ماہرین کی خدمات لی جائیں۔ ریلوے سے متعلق منصوبہ بندی میں بڑے بڑے منصوبے شامل ہیں۔ ٹرین میں سفر کے دوران بہت ہی چھوٹے چھوٹے مسئلے بھی ہوتے ہیں جن کے حل کے لیے بین الاقوامی ماہرین کیا کر سکتے ہیں۔

ٹوائلٹ ہے پانی نہیں، ایک اندازے کے مطابق پاکستان ریلوے کی 65 فی صد ٹرینوں میں پانی کی فراہمی کے لیے کئی ارب روپے مختص کیے ہیں مگر پانی پھر بھی نہیں آتا۔ ایک مسافر ٹکٹ دکھا کر عملے کے کسی رکن سے پوچھتا ہے کہ اس ٹکٹ پر سیٹ نمبر بھی ہے اور بوگی نمبر بھی لکھا ہے لیکن پوری ٹرین میں بوگی موجود نہیں۔ جواب ملتا ہے کہ گارڈ سے پوچھیں، یعنی جو شخص صحیح جواب دے سکتا ہے، بوگی کے ساتھ ساتھ وہ بھی غائب، وہ بھی دستیاب نہیں۔ اب ریلوے کے اس نظام کا باہر والے آ کرکیا کریں گے؟ جہاں ریلوے کے افسران اور ملازمین کو ہی احساس نہ ہو۔ وہ اے سی روم میں بیٹھے ہوتے ہیں اور عوام رُل رہی ہوتی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق پاکستان ریلوے تقریباً 40 فی صد تاخیر کا شکار رہتی ہے جب کہ میرا اپنا مشاہدہ اور تجربہ بھی ہے کہ جب بھی ٹرین سے سفر کیا ہمیشہ لیٹ ہی لیٹ اور کسی کو لینے گئے جب بھی ٹرین کئی کئی گھنٹے لیٹ آتی ہے۔ ریلوے پاکستان کے غریب عوام کی سواری ہے، اگر یہ درست ہو جائے تو قوم کا بھی نظام الاوقات درست ہو جائے۔ حکومت بین الاقوامی ماہرین کو فوراً بلانے کا بندوبست کرے۔ اس کے ساتھ ایران کے ٹرین سسٹم کا مطالعہ بھی کر لیا جائے۔

بہت سی باتیں ہم ان سے سیکھ سکتے ہیں۔ دنیا میں ریلوے کا ایک بڑا نظام بھارت چلا رہا ہے، پورا یورپ ریلوے کے نظام سے جڑا ہوا ہے، اس کے ساتھ مال گاڑیوں کا نظام الاوقات درست ہونا چاہیے۔ٹرین کے سفر کے دوران یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ ریلوے اسٹیشن پر کئی بوڑھے تھکے ماندے زنگ آلود انجن بھی کھڑے ہوتے ہیں۔

وہیں کہیں وہ بوگی بھی چھپ کر کھڑی ہوتی ہے جسے ٹرین کے ساتھ جوڑنا تھا جس کا بوگی نمبر، سیٹ نمبر برتھ کا بھی ٹکٹ بک کر لیا گیا ہوگا۔ مگر حکام نے سوچا ہوگا یہ بوگی تو ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، مرمت کی طلب گار ہے، اس کے پہیوں میں جان ہی نہیں، اس کا رنگ اکھڑا ہوا ہے، بہتر یہ ہے کہ اس بوگی کو ہی روک لیتے ہیں۔ عوام کا کہنا ہے وہ تو ٹوائلٹ کے سامنے بیٹھ کر بھی اپنی منزل تک پہنچ ہی جائیں گے۔

وزیر اعظم کے بلانے پر بین الاقوامی ماہرین بھی آ جائیں گے، اپنا لائحہ عمل بھی دے جائیں گے، منصوبہ بندی بھی کر جائیں گے، ٹرینوں کی حالت بھی درست کروا جائیں گے اور بہت کچھ ہو جائے گا لیکن آخر میں ٹرینیں چلانے کی ذمے داری یہیں کے حکام، افسران، ملازمین کی ہوگی۔ اگر سب کو اپنی ڈیوٹی، اپنی ذمے داری کا احساس ہو جائے تو پاکستان ریلوے کا آدھا نظام ویسے ہی درست ہو جائے اور مسافروں کو بھی شکایات نہ ہوں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان ریلوے بین الاقوامی جائیں گے کے ساتھ ہو جائے ٹرین کے درست ہو

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت