Express News:
2026-06-03@00:13:28 GMT

پاکستان ریلوے، نظام الاوقات

اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT

پاکستان کے کئی ریلوے اسٹیشنوں اورکئی مقامات پر انگریزوں نے اپنے دور میں بھاری بھرکم گھڑیاں لگا دی تھیں۔ اسٹیشنوں پر لگی گھڑیاں محض لوہے کا ایک پرزہ نہیں بلکہ اپنی گول مٹول جسامت کے ساتھ وہ آہنی آنکھ ہے جو شاید ایک صدی سے مسافروں کو دیکھتی چلی آ رہی ہے۔ انگریزوں نے یہ گھڑیاں اس لیے لگا رکھی تھیں کہ ٹرین وقت پر آئے، وقت پر جائے اور ان گھڑیوں کو دیکھ کر قوم بھی وقت کی پابندی سیکھ لے، لیکن ریلوے نے قوم کو ایسا سبق سکھایا کہ بار بار لیٹ آنا اور لیٹ جانا۔ اب یہ گھڑیاں وقت تو صحیح بتاتی ہیں لیکن ٹرین وقت کا مذاق اڑاتی ہے اور جب ٹرین لیٹ سے لیٹ ہو کر اسٹیشن پر پہنچتی ہوگی تو شاید یہ گھڑی مخاطب ہوتی ہو کہ میں تو ہر لمحہ آگے بڑھتی ہوں، صحیح وقت بتاتی ہوں، تم کیوں لیٹ ہو جاتے ہو؟ تمہاری بوگیوں میں بچے روتے ہیں۔

 عورتیں تھکی ہاری انتظار میں رہتی ہیں کہ ایک اسٹیشن آئے گا، مزدور کے کندھے کا درد بڑھ جاتا ہے جب تم لیٹ ہو جاتے ہو اور وہ بوڑھا مسافر اپنی جھکی ہوئی کمر کے ساتھ لاٹھی ٹیکتے ہوئے سوچتا ہوگا شاید کہ انگریز سرکار کے دور میں جب میں جوان تھا، ٹرین تو ایک سیکنڈ بھی لیٹ نہیں ہوتی تھی۔ شاید اس کی یاد داشت میں یہ بات بھی ہو کہ جب ٹرین پہنچتی تو ہم اپنی گھڑیاں درست کر لیتے تھے کیونکہ ہمیں اپنی گھڑیوں پر اعتماد نہ تھا جتنا کہ ٹرین کے رائٹ ٹائم پر پہنچنے کا۔ ٹرین کے انجن نے یہ جواب دیا ہو کہ میرا قصور نہیں ہے، یہ نظام کی خرابی ہے۔

ریلوے نظام کی اصلاح کی باتیں تو کئی دہائیوں سے ہو رہی تھیں لیکن اب وزیر اعظم نے زور دے کر کہا ہے کہ ریلوے نظام کسی ملک کی معیشت اور مواصلات کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کی اصلاح اور اپ گریڈیشن بہت ضروری ہے۔ وزیر اعظم نے ایک اعلیٰ سطح اجلاس میں یہ فیصلہ کیا کہ بین الاقوامی معیار کے قانونی اور معاشی ماہرین کی خدمات لی جائیں۔ ریلوے سے متعلق منصوبہ بندی میں بڑے بڑے منصوبے شامل ہیں۔ ٹرین میں سفر کے دوران بہت ہی چھوٹے چھوٹے مسئلے بھی ہوتے ہیں جن کے حل کے لیے بین الاقوامی ماہرین کیا کر سکتے ہیں۔

ٹوائلٹ ہے پانی نہیں، ایک اندازے کے مطابق پاکستان ریلوے کی 65 فی صد ٹرینوں میں پانی کی فراہمی کے لیے کئی ارب روپے مختص کیے ہیں مگر پانی پھر بھی نہیں آتا۔ ایک مسافر ٹکٹ دکھا کر عملے کے کسی رکن سے پوچھتا ہے کہ اس ٹکٹ پر سیٹ نمبر بھی ہے اور بوگی نمبر بھی لکھا ہے لیکن پوری ٹرین میں بوگی موجود نہیں۔ جواب ملتا ہے کہ گارڈ سے پوچھیں، یعنی جو شخص صحیح جواب دے سکتا ہے، بوگی کے ساتھ ساتھ وہ بھی غائب، وہ بھی دستیاب نہیں۔ اب ریلوے کے اس نظام کا باہر والے آ کرکیا کریں گے؟ جہاں ریلوے کے افسران اور ملازمین کو ہی احساس نہ ہو۔ وہ اے سی روم میں بیٹھے ہوتے ہیں اور عوام رُل رہی ہوتی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق پاکستان ریلوے تقریباً 40 فی صد تاخیر کا شکار رہتی ہے جب کہ میرا اپنا مشاہدہ اور تجربہ بھی ہے کہ جب بھی ٹرین سے سفر کیا ہمیشہ لیٹ ہی لیٹ اور کسی کو لینے گئے جب بھی ٹرین کئی کئی گھنٹے لیٹ آتی ہے۔ ریلوے پاکستان کے غریب عوام کی سواری ہے، اگر یہ درست ہو جائے تو قوم کا بھی نظام الاوقات درست ہو جائے۔ حکومت بین الاقوامی ماہرین کو فوراً بلانے کا بندوبست کرے۔ اس کے ساتھ ایران کے ٹرین سسٹم کا مطالعہ بھی کر لیا جائے۔

بہت سی باتیں ہم ان سے سیکھ سکتے ہیں۔ دنیا میں ریلوے کا ایک بڑا نظام بھارت چلا رہا ہے، پورا یورپ ریلوے کے نظام سے جڑا ہوا ہے، اس کے ساتھ مال گاڑیوں کا نظام الاوقات درست ہونا چاہیے۔ٹرین کے سفر کے دوران یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ ریلوے اسٹیشن پر کئی بوڑھے تھکے ماندے زنگ آلود انجن بھی کھڑے ہوتے ہیں۔

وہیں کہیں وہ بوگی بھی چھپ کر کھڑی ہوتی ہے جسے ٹرین کے ساتھ جوڑنا تھا جس کا بوگی نمبر، سیٹ نمبر برتھ کا بھی ٹکٹ بک کر لیا گیا ہوگا۔ مگر حکام نے سوچا ہوگا یہ بوگی تو ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، مرمت کی طلب گار ہے، اس کے پہیوں میں جان ہی نہیں، اس کا رنگ اکھڑا ہوا ہے، بہتر یہ ہے کہ اس بوگی کو ہی روک لیتے ہیں۔ عوام کا کہنا ہے وہ تو ٹوائلٹ کے سامنے بیٹھ کر بھی اپنی منزل تک پہنچ ہی جائیں گے۔

وزیر اعظم کے بلانے پر بین الاقوامی ماہرین بھی آ جائیں گے، اپنا لائحہ عمل بھی دے جائیں گے، منصوبہ بندی بھی کر جائیں گے، ٹرینوں کی حالت بھی درست کروا جائیں گے اور بہت کچھ ہو جائے گا لیکن آخر میں ٹرینیں چلانے کی ذمے داری یہیں کے حکام، افسران، ملازمین کی ہوگی۔ اگر سب کو اپنی ڈیوٹی، اپنی ذمے داری کا احساس ہو جائے تو پاکستان ریلوے کا آدھا نظام ویسے ہی درست ہو جائے اور مسافروں کو بھی شکایات نہ ہوں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان ریلوے بین الاقوامی جائیں گے کے ساتھ ہو جائے ٹرین کے درست ہو

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی