Express News:
2026-06-03@04:24:31 GMT

سزائے موت کے بعد شیخ حسینہ ایک اور مشکل میں پھنس گئیں

اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT

بنگلا دیش کی معزول وزیراعظم شیخ حسینہ کو سرکاری زمین کی غیر قانونی الاٹمنٹ سے متعلق تین الگ الگ مقدمات میں مجموعی طور پر 21 سال قید کی سزا سنادی گئی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بنگلادیشی عدالت نے فیصلہ دیا کہ شیخ حسینہ نے ڈھاکا کے مضافاتی علاقے میں اپنے اور اہل خانہ کے لیے سرکاری پلاٹس حاصل کیے۔

زمین ہتھیانے کے ان مقدمات کو انسداد بدعنوانی کمیشن نے پورباچل نیو ٹاؤن منصوبے میں قیمتی اراضی کی غیر قانونی الاٹمنٹ کے الزام میں دائر کیا تھا۔

عدالت کے جج عبداللہ المأمون نے فیصلے میں کہا کہ شیخ حسینہ نے ریاستی اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور سرکاری اراضی کو ذاتی ملکیت سمجھ کر اپنے اور قریبی رشتہ داروں کے فائدے کے لیے سرکاری عمل میں ردوبدل کیا۔

تینوں مقدمات میں شیخ حسینہ واجد کو سات سات سال قید کی سزا سنائی گئی جو بیک وقت نہیں بلکہ یکے بعد دیگرے پوری کرنا ہوگی۔ اس طرح مجموعی سزا 21 سال کی ہوگی۔

عدالتی فیصلے کے مطابق شیخ حسینہ کے بیٹے سجیبو واجد اور بیٹی سایمہ واجد کو بھی ایک مقدمے میں پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی۔

سرکاری استغاثہ نے اس فیصلے پر عدم اطمینان ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ سزا کے لیے اپیل کریں گے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے ہی سابق وزیراعظم کو انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں سزائے موت بھی سنائی گئی تھی۔

شیخ حسینہ واجد پر الزام تھا کہ انھوں نے گزشتہ برس طلبا کی قیادت میں ہونے والی تحریک کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم دیا تھا۔

معزول وزیراعظم شیخ حسینہ واجد 5 اگست 2024 کو ملک چھوڑ کر بھارت چلی گئی تھیں اور اب عدالت کے احکامات کے باوجود وطن واپس نہیں آئیں۔

خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بھارتی حکومت بھی بنگلا دیش کی جانب سے کیے گئے حوالگی کے مطالبے کا جائزہ لے رہی ہے۔

شیخ حسینہ اور ان کی جماعت عوامی لیگ نے ان کارروائیوں کو سیاسی انتقام قرار دیا ہے جبکہ کچھ بین الاقوامی انسانی حقوق تنظیموں نے عدالتی عمل کی شفافیت پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔

واضح رہے کہ سرکاری زمین ہتھیانے سے متعلق دیگر مقدمات بھی زیر سماعت ہیں جن میں سے ایک کا فیصلہ یکم دسمبر کو متوقع ہے۔

 

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی

اسلام آباد، گزشتہ مہینے پاکستان میں 3ہزار 161نئی کمپنیاں رجسٹرڈ(companies registerd) ہوئیں جس کے بعد رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد 2لاکھ 97 ہزار 239 تک پہنچ گئی۔ ڈیجیٹلائزیشن کے باعث 99.9 فیصد کمپنیاں آن لائن رجسٹر کی گئیں۔

ایس ای سی پی کے مطابق صوبائی اور علاقائی لحاظ سے مئی کے دوران سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں پنجاب میں رجسٹر ہوئیں، جبکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 کمپنیاں رجسٹر کی گئیں۔

خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر کی گئیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ای کامرس کا سیکٹر سرفہرست رہا، جہاں آئی ٹی میں سب سے زیادہ 598 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔

اس کے بعد ٹریڈنگ میں 503 ، سروسز سیکٹر میں 404 ، رئیل اسٹیٹ اور کنسٹرکشن میں 303 جبکہ سیاحت اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں 206 نئی کمپنیوں نے رجسٹریشن کرائی۔ مئی میں 17 ممالک کے سرمایہ کاروں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کی۔

مزید پڑھیں:بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

چین سرفہرست رہا جہاں کے نواسی شیئر ہولڈرز نے کمپنیوں میں ڈائریکٹر شپ حاصل کی۔ تمام غیر ملکی کمپنیوں کا مجموعی ادا شدہ سرمایہ تیرہ کروڑ چورانوے لاکھ روپے ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • نمائندہ یورپی یونین کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں