Express News:
2026-07-24@06:50:37 GMT

سزائے موت کے بعد شیخ حسینہ ایک اور مشکل میں پھنس گئیں

اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT

بنگلا دیش کی معزول وزیراعظم شیخ حسینہ کو سرکاری زمین کی غیر قانونی الاٹمنٹ سے متعلق تین الگ الگ مقدمات میں مجموعی طور پر 21 سال قید کی سزا سنادی گئی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بنگلادیشی عدالت نے فیصلہ دیا کہ شیخ حسینہ نے ڈھاکا کے مضافاتی علاقے میں اپنے اور اہل خانہ کے لیے سرکاری پلاٹس حاصل کیے۔

زمین ہتھیانے کے ان مقدمات کو انسداد بدعنوانی کمیشن نے پورباچل نیو ٹاؤن منصوبے میں قیمتی اراضی کی غیر قانونی الاٹمنٹ کے الزام میں دائر کیا تھا۔

عدالت کے جج عبداللہ المأمون نے فیصلے میں کہا کہ شیخ حسینہ نے ریاستی اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور سرکاری اراضی کو ذاتی ملکیت سمجھ کر اپنے اور قریبی رشتہ داروں کے فائدے کے لیے سرکاری عمل میں ردوبدل کیا۔

تینوں مقدمات میں شیخ حسینہ واجد کو سات سات سال قید کی سزا سنائی گئی جو بیک وقت نہیں بلکہ یکے بعد دیگرے پوری کرنا ہوگی۔ اس طرح مجموعی سزا 21 سال کی ہوگی۔

عدالتی فیصلے کے مطابق شیخ حسینہ کے بیٹے سجیبو واجد اور بیٹی سایمہ واجد کو بھی ایک مقدمے میں پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی۔

سرکاری استغاثہ نے اس فیصلے پر عدم اطمینان ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ سزا کے لیے اپیل کریں گے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے ہی سابق وزیراعظم کو انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں سزائے موت بھی سنائی گئی تھی۔

شیخ حسینہ واجد پر الزام تھا کہ انھوں نے گزشتہ برس طلبا کی قیادت میں ہونے والی تحریک کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم دیا تھا۔

معزول وزیراعظم شیخ حسینہ واجد 5 اگست 2024 کو ملک چھوڑ کر بھارت چلی گئی تھیں اور اب عدالت کے احکامات کے باوجود وطن واپس نہیں آئیں۔

خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بھارتی حکومت بھی بنگلا دیش کی جانب سے کیے گئے حوالگی کے مطالبے کا جائزہ لے رہی ہے۔

شیخ حسینہ اور ان کی جماعت عوامی لیگ نے ان کارروائیوں کو سیاسی انتقام قرار دیا ہے جبکہ کچھ بین الاقوامی انسانی حقوق تنظیموں نے عدالتی عمل کی شفافیت پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔

واضح رہے کہ سرکاری زمین ہتھیانے سے متعلق دیگر مقدمات بھی زیر سماعت ہیں جن میں سے ایک کا فیصلہ یکم دسمبر کو متوقع ہے۔

 

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ

پشاور (نیوز ڈیسک) سرکاری ملازمین کے لیے بڑی خوشخبری آگئی، پنشن میں 7 فیصد اضافہ یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت نے صوبائی سرکاری پنشنرز کے لیے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے نیٹ پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

حکومتی اعلامیے میں کہا گیا کہ پنشن میں 7 فیصد اضافہ یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوگیا اور اس سے تمام صوبائی سرکاری پنشنرز مستفید ہو سکیں گے۔

محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں پنشن میں اضافے کے حوالے سے اہم نکات اور شرائط واضح کی گئی ہیں۔

جس میں کہا ہے کہ یہ 7 فیصد اضافہ 30 جون 2026 تک حاصل کردہ نیٹ پنشن کی بنیاد پر دیا جائے گا اور یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین بھی اس 7 فیصد اضافے کے حقدار ہوں گے۔

یہ اضافہ فیملی پنشن اور کمپیشنٹ الاؤنس کے کیسز پر بھی یکساں طور پر لاگو ہوگا۔

اس کے علاوہ بیرون ملک مقیم صوبائی حکومت کے اہل پنشنرز بھی مقررہ شرائط و ضوابط کے تحت اس اضافے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ 7 فیصد اضافہ پہلے سے ملنے والی کسی بھی “خصوصی اضافی پنشن” پر لاگو نہیں ہوگا۔

خیبرپختونخوا حکومت کے اس اقدام کو صوبے کے لاکھوں ریٹائرڈ ملازمین اور ان کے خاندانوں کے لیے موجودہ معاشی صورتحال میں ایک بڑا ریلیف قرار دیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں۔سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے

متعلقہ مضامین

  • میکسیکو کی معروف بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران دم توڑ گئیں
  • بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • مبینہ مقابلے‘ 45 سے زائد مقدمات کا ملزم گوجرانوالہ‘ 2 ڈ اکو پیر محل میں ہلاک 
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل