شیخ حسینہ واجد کی حوالگی، بھارت نے بنگلہ دیش کی درخواست پر غور شروع کردیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
بھارت نے کہا ہے کہ اسے بنگلہ دیش کی طرف سے سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ کی حوالگی کی درخواست موصول ہوگئی ہے، اور اب عدالتی اور اندرونی قانونی عمل کے تحت اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے بتایا کہ بھارت بنگلہ دیش کے عوام کے بہترین مفاد، بالخصوص امن، جمہوریت، استحکام اور شمولیت، کے لیے پرعزم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد بھارت فرار ہونے پر کیوں مجبور ہوئیں؟
ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں رندھیر جیسوال نے درخواست موصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس کا جائزہ جاری عدالتی اور داخلی قانونی عمل کے مطابق لیا جا رہا ہے۔
https://Twitter.
’ہم بنگلہ دیش کے عوام کے بہترین مفادات کے لیے پرعزم ہیں اور تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ تعمیری انداز میں مصروفِ عمل رہیں گے۔‘
بنگلہ دیش نے پہلی بار گزشتہ برس دسمبر میں اور پھر حال ہی میں شیخ حسینہ کو بین الاقوامی کرائم ٹربیونل نے جولائی 2024 کے مظاہروں سے متعلق انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات میں سزائے موت سنائے جانے کے فیصلے کے بعد یہ درخواست بھیجی ہے۔
مزید پڑھیں: شیخ حسینہ کے اقتدار کا خاتمہ بھارت کے لیے باعث پریشانی کیوں؟
آئی سی ٹی نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے 2 قریبی ساتھیوں کو بھی سزا سنائی ہے، سابق وزیرِداخلہ اسد الزمان خان کمال کو سزائے موت اور وعدہ معاف گواہ بن جانیوالے سابق آئی جی پی چوہدری عبداللہ المامون کو 5 سال قید کی سزا دی گئی ہے۔
عدالتی فیصلے کے بعد شیخ حسینہ نے ٹربیونل کو ’مسلّمہ طور پر متعصب‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک غیر منتخب عبوری حکومت کی زیرِ نگرانی چل رہا ہے جس کا کوئی جمہوری جواز نہیں۔
مزید پڑھیں:
اپنے بیان میں شیخ حسینہ نے کہا کہ سزائے موت کے اس مکروہ مطالبے میں عبوری حکومت کے انتہاپسند عناصر کی کھلی قاتلانہ نیت ظاہر ہوتی ہے، جو بنگلہ دیش کی آخری منتخب وزیرِاعظم کو راستے سے ہٹانا اور عوامی لیگ کو ایک سیاسی قوت کے طور پر مٹانا چاہتے ہیں۔
’ڈاکٹر محمد یونس کی افراتفری، تشدد اور سماجی پسماندگی کی شکار حکومت کے تحت پسنے والے لاکھوں بنگلہ دیشی اپنے جمہوری حقوق چھیننے کی اس کوشش میں دھوکا نہیں کھائیں گے۔‘
مزید پڑھیں:
بدھ کو بنگلہ دیش کا کہنا تھا کہ بھارت نے اس سے قبل بھیجی گئی حوالگی کی درخواست کا ’کوئی جواب‘ نہیں دیا تھا، تاہم اب انہیں توقع ہے کہ حالات بدلنے کے باعث بھارت جواب دے گا۔
امورِ خارجہ کے مشیر ایم توحید حسین نے کہا کہ انہیں توقع نہیں کہ نئی دہلی ڈھاکا کی درخواست کے ایک ہفتے کے اندر جواب دیدے گی، لیکن امید ہے کہ جواب ضرور ملے گا۔
قانونی مشیر آصف نذرول نے بھی کہا کہ عبوری حکومت ’مفرور مجرموں‘ کی واپسی کے لیے ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت سے رجوع کرنے پر بھی غور کر رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انسانیت بنگلہ دیش بھارت ڈاکٹر محمد یونس شیخ حسینہ عبوری حکومت عوامی لیگ فوجداری عدالت کرائم ٹربیونل
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انسانیت بنگلہ دیش بھارت ڈاکٹر محمد یونس عبوری حکومت عوامی لیگ فوجداری عدالت کرائم ٹربیونل بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کی درخواست کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔