اسلام آباد، ایم ڈبلیو ایم جی بی کے نائب صدر نجف علی شگری کی علامہ راجہ ناصر عباس سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے ضلع شگر میں آئندہ انتخابات کے سلسلے میں جامع حکمتِ عملی اختیار کرنے، بھرپور تیاری کرنے اور سیاسی سرگرمیوں میں مزید تیزی لانے کی واضح ہدایات جاری کیں۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے نائب صدر اور رکنِ سیاسی کونسل حاجی نجف علی شگری نے سربراہِ مجلس وحدت مسلمین پاکستان سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری سے اہم ملاقات کی۔ ملاقات میں گلگت بلتستان کے موجودہ سیاسی منظرنامے اور درپیش چیلنجز پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے ضلع شگر میں آئندہ انتخابات کے سلسلے میں جامع حکمتِ عملی اختیار کرنے، بھرپور تیاری کرنے اور سیاسی سرگرمیوں میں مزید تیزی لانے کی واضح ہدایات جاری کیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علامہ راجہ ناصر عباس
پڑھیں:
ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
واشنگٹن:امریکی سینیٹ میں ایران سے متعلق پالیسی پر اس وقت گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی جب ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو سخت سوالات کی زد میں لے لیا۔
سینیٹ اجلاس کے دوران کوری بُکر نے حکومت کی ایران پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر امریکا کیوں ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی طرف دوبارہ بڑھ رہا ہے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب ماضی میں اسی ڈیل کو خود امریکا ناقابل قبول قرار دے چکا تھا۔
سینیٹر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کیا واشنگٹن اب اس معاہدے کے لیے دباؤ کا شکار ہو رہا ہے جسے پہلے مسترد کیا جا چکا تھا۔
بُکر نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق اقدامات اور خطے کی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے اس کے باوجود سفارتی راستہ کس بنیاد پر اختیار کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیںایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
جواب میں وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکا ایران سے کسی بھیک کی پوزیشن میں نہیں بلکہ یہ ایک پیچیدہ سفارتی اور تکنیکی عمل ہے۔
ان کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات جذباتی نہیں بلکہ انتہائی تکنیکی نوعیت کے ہیں، جو چند دنوں میں مکمل نہیں ہو سکتے۔
روبیو نے کہا کہ ماہرین کی سطح پر بات چیت ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتی ہے تاکہ ایک قابلِ عمل حل نکالا جا سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اب ان بعض امور پر بات کرنے پر آمادہ ہوا ہے جن سے پہلے وہ انکار کرتا رہا ہے، خصوصاً افزودہ یورینیم کے معاملے پر پیش رفت کی ضرورت ہے۔