کرپشن کیس ،بنگلادیش کی سپریم کورٹ نے شیخ حسینہ واجد کو 21سال کی سزا سنادی
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
کرپشن کیس ،بنگلادیش کی سپریم کورٹ نے شیخ حسینہ واجد کو 21سال کی سزا سنادی WhatsAppFacebookTwitter 0 27 November, 2025 سب نیوز
ڈھاکہ (آئی پی ایس )بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نے کرپشن کیس میں شیخ حسینہ واجد کو 21 سال قید کی سزا سنا دی ہے ۔تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کو کرپشن کے 3مقدمات میں سزا سنائی گئی ہے ، شیخ حسینہ واجد پر مضافاتی علاقوں میں غیرقانونی طریقے سے زمین حاصل کرنے کا الزام تھا۔
چیف جسٹس بنگلہ دیش عبداللہ المامون نے ریمارکس دیئے کہ سابق وزیر اعظم نے ملک میں بڑے پیمانے پر کرپش کی،سابق وزیر اعظم نے طاقت کے ذریعے سرکاری املاک پر قبضہ کیا۔مقامی میڈیا کے مطابق کرپشن کیس میں شیخ حسینہ واجد کے بیٹے اور بیٹی کو 5 سال قید کی سزا سنائی گئی، گذشتہ ہفتے انسانیت کے خلاف جرائم پرحسینہ واجد کو موت کی سزادی گئی تھی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسلام آباد میں ابتک 35 ہزار سے زائد گاڑیوں پر ایم ٹیگ لگائے جاچکے،چیئرمین سی ڈی اے کی زیر صدارت اجلاس کو بریفنگ اسلام آباد میں ابتک 35 ہزار سے زائد گاڑیوں پر ایم ٹیگ لگائے جاچکے،چیئرمین سی ڈی اے کی زیر صدارت اجلاس کو بریفنگ پنجاب میں پیٹرول موٹرسائیکل اور رکشے کی پروڈکشن پر پابندی لگانے کا فیصلہ وفاقی آئینی عدالت میں 27ویں ترمیم کو چیلنج کر دیا گیا،کالعدم قرار دینے کا مطالبہ پی ٹی آئی کا عمران خان کی صحت سے متعلق افواہوں پر حکومت سے وضاحت دینے کا مطالبہ حکومت ناکام، عدلیہ پر سوالات آئی ایم ایف رپورٹ عوام سے چھپائی گئی، شاہد خاقان پاکستانی ہندو کمیونٹی کی بھارتی وزیر دفاع کیخلاف بھارتی ہائی کمیشن کے باہر دھرنے کی دھمکی، متنازع بیان واپس لینے کیلئے تین دن کا...
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: شیخ حسینہ واجد کو کرپشن کیس کی سزا
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔