راولپنڈی:

خیبرپختونخوا کے وزیراعلی محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی طبیعت ناسازی سے متعلق خبروں پر سخت تشویش ہے اور ملاقات کے ذریعے اسے تشویس کو دور نہ کیا گیا تو پوری قوم سڑکوں پر ہو گی۔

اڈیالہ روڈ پر فیکٹری ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم نے تمام قانونی اور جمہوری راستے اپنائے ہیں، میں تو دھرنے میں آنا چاہتا تھا لیکن بانی کی بہنوں نے منع کیا۔

انہوں نے کہا کہ بانی کی ہدایت پر حکومت سے مذاکرات ہوئے لیکن ان کے پاس تو کوئی اختیار ہے ہی نہیں، جو 8 فروری کو ہوا وہی 23 نومبر کو بھی ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ حالیہ ضمنی انتخاب میں 95 فیصد لوگ ووٹ دینے نہیں نکلے، پنجاب کے عوام نے ووٹ نہ دے کر بانی پی ٹی آئی سے اظہار یک جہتی کیا ہے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کرانے پر ہمارے خدشات بڑھ رہے ہیں، ہمارے پاس آخری راستہ بھی ہے اس پر غور کیا جا رہا ہے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ میں نے کسی سے بات کرنے کی بات نہیں کی کیونکہ ان کے پاس مینڈیٹ ہی نہیں ہے، صحافیوں کو چاہیئے وہ حکومت سے 5 ہزار 300 ارب کی کرپشن پر بات کرے، یہ پیسہ عام آدمی کے ٹیکس کا پیسہ ہے یہ اربوں روپے کھا گئے اور ڈھکار بھی نہیں ماری۔

انہوں نے کہا کہ بے روزگاری آسمان کو چھو رہی ہے، نوجوان پاکستان چھوڑ کر جا رہے ہیں، این ایف سی میں اپنے صوبے کا مقدمہ لڑوں گا اور اجلاس میں شرکت کروں گا جبکہ حکومت نے چار مرتبہ ایف ایف سی اجلاس ملتوی کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی طبیعت ناسازی بارے جو خبریں یا افواہیں آرہی ہیں، اس سے تشویش بڑھ رہی ہے، چاہتے ہیں بانی سے ملاقات کرکے ان کی صحت کے بارے میں دریافت کریں۔

قبل ازیں اڈیالہ پہنچنے پر وزیر اعلی سہیل آفریدی کا فیکٹری ناکے پر پولیس افسران سے مکالمہ ہوا اور انہوں نے پولیس افسران سے مخاطب ہو کر کہا کہ گزشتہ مرتبہ بھی مجھے روکا گیا تب بھی میں نے کہا تھا مجھے تحریری طور پر بتائیں کہ عدالتی احکامات کیوں نہیں مان رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آج تو بتا دیں، یہاں پر زبردستی حالات کو خراب کیا جا رہا ہے، ایک صوبے کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے، کل دوسرے صوبے میں کسی اور کے ساتھ یہ ہو گا تو وہ آپ کو اچھا لگے گا۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ یہ نفرتیں اور تلخیاں پاکستان کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہیں، آٹھویں مرتبہ شرافت سے آرہا ہوں، اپ سے بات کرتا ہوں اور آرام سے بیٹھ جاتا ہوں، راولپنڈی بار بار پشاور سے آنا اور اڈیالہ سے واپس چلے جانا یہ کوئی آسان بات تو نہیں ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سہیل آفریدی نے کہا بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ انہوں نے کہ بانی

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی، عالمی منڈی میں تشویش کی لہر
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ