8ویں مرتبہ آیا ہوں، بانی پی ٹی آئی سے کیوں نہیں ملنے دیا جارہا، سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے قریب گورکھپور ناکے پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا پولیس اہلکاروں کے ساتھ مختصر مکالمہ ہوا ہے۔
سہیل آفریدی نے پولیس اہلکاروں سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ 8ویں مرتبہ جیل آئے لیکن انہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جارہی۔
یہ بھی پڑھیں: کیا سہیل آفریدی مفاہمت کے رستے پر چل پڑے، کتنا آگے جا سکیں گے؟
انہوں نے کہا کہ وہ خیبر پختونخوا کے ساڑھے 4 کروڑ عوام کے نمائندہ ہیں اور عدالتی احکامات کے باوجود ملاقات سے روکے جانے پر انہوں نے تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے سوال کیا کہ اندر کون موجود ہے اور ملاقات کیوں نہیں کروائی جا رہی۔ ان کا مطالبہ تھا کہ تحریری طور پر بتایا جائے کہ عدالتی حکم پر عمل کیوں نہیں ہو رہا اور راستہ روکنے کی وجہ کیا ہے۔
میں بار بار شرافت سے آ رہا ہوں ، آتا ہوں یہاں بیٹھ جاتا ہوں، آپ لوگوں کو بھی احساس کرنا چاہیے،
سہیل آفریدی نے جس دن ڈنڈے کا جواب ڈنڈے سے دیا یہ ہھر سدھریں گے pic.
— Ahmad Hassan Bobak (@ahmad__bobak) November 27, 2025
وزیر اعلیٰ کے پی نے کہا کہ اس طرز عمل سے ایک صوبے کے ساتھ امتیازی سلوک کا تاثر پیدا ہو رہا ہے اور یہ صورتحال ملک میں مزید فاصلے بڑھا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کل اگر کسی اور صوبے میں کسی دوسرے رہنما کے ساتھ ایسا ہوا تو یہ کسی کے لیے بھی مناسب نہیں ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی نے اچھے کام کیے تو ہم حمایت کریں گے، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی
سہیل آفریدی نے کہا کہ میں ہربار آتا ہوں، شرافت سے بیٹھ جاتا ہوں، آپ کو بھی احساس کرنا چاہیے، بار بار پشاور سے اڈیالہ آنا اور پھر جانا، یہ افسوسناک ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اڈیالہ جیل بانی پی ٹی آئی پاکستان پولیس اہلکار خیبرپختونخوا عمران خان وزیراعلی سہیل آفریدی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اڈیالہ جیل بانی پی ٹی ا ئی پاکستان پولیس اہلکار خیبرپختونخوا وزیراعلی سہیل ا فریدی سہیل ا فریدی نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔